کوڑے کے ڈھیر پر نایاب پرندے کی تصویر کس طرح دنیا میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنی؟ – World



13160552db4630a کوڑے کے ڈھیر پر نایاب پرندے کی تصویر کس طرح دنیا میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنی؟ - World

یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور لرزہ خیز واقعہ ہے جس نے سائنسی دنیا اور مہم جوئی کے شوقین افراد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے جنون کی ہے جو کوڑے کے ڈھیر سے شروع ہوا اور ایک بین الاقوامی میڈیکل ایمرجنسی میڈیکل ایمرجنسی پر ختم ہوا۔

دنیا میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ اور ایک نئے طبی بحران کی ابتدا ارجنٹائن کے ایک دور افتادہ کوڑے کے ڈھیر سے ہوئی، جہاں ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی کوشش نے موت کا راستہ ہموار کر دیا۔

اس وبائی لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ڈچ جوڑے، لیو شلپروڈ اور ان کی اہلیہ مریم شلپروڈ ’ڈارون کاراکارا‘ نامی پرندے کی تلاش میں اوشوائیا کے ایک بدبودار لینڈ فل میں داخل ہوئے۔

لیو شلپروڈ کو اطلاع ملی تھی کہ اوشوائیا کے مضافات میں واقع ایک وسیع و عریض لینڈ فل یعنی کچرا کنڈی میں ایک انتہائی نایاب پرندہ ’ڈارون کاراکارا‘ دیکھا گیا ہے۔ یہ مردار خور شکاری پرندہ عام طور پر انسانی پہنچ سے دور رہتا ہے، لیکن کوڑے کے اس پہاڑ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔

27 مارچ 2026 کو لیو اس بدبودار اور تعفن زدہ جگہ پر پہنچے، جہاں مقامی لوگ جانے سے کتراتے تھے۔ اسی جگہ پرندے کی تصویر لینے کی کوشش کے دوران ان کا سامنا اس پوشیدہ دشمن سے ہوا جسے سائنس کی زبان میں ’ہنٹا وائرس‘ کہا جاتا ہے۔

نایاب پرندے کے قریب جانے کے جنون میں لیو اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ وہ جس ہوا میں سانس لے رہے ہیں، وہ چوہوں کے فضلے سے اڑنے والے مہلک وائرس کے ذرات سے بھری ہوئی ہے۔

تحقیقات کے مطابق، اس لینڈ فل میں چوہوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو ہنٹا وائرس کی مہلک ترین قسم ’انڈیز اسٹرین‘ کی حامل تھی۔ جب لیو، پرندے کی تلاش میں وہاں گھوم رہے تھے، تو انہوں نے نادانستہ طور پر چوہوں کے فضلے سے آلودہ ہوا کو ’سانس کے ذریعے‘ اپنے جسم میں اتار لیا۔ یہ وائرس کے ذرات براہِ راست ان کے پھیپھڑوں میں پہنچ گئے۔ لیو اس وائرس کے پہلے شکار یعنی ’پیشنٹ زیرو‘ بن گئے۔

کروز شپ ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر وباء کا پھیلاؤ

اس دورے کے چار دن بعد یہ ڈچ جوڑا ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی کروز جہاز پر سوار ہوا اور یہیں سے اس وائرس نے انسانی بستیوں کا رخ کیا۔

سفر کے دوران لیو کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ انہیں شدید بخار، پیٹ میں درد اور اسہال کی شکایت ہوئی۔ جہاز کے عملے نے اسے عام بیماری سمجھا، لیکن 6 اپریل تک ان کی حالت تشویشناک ہو گئی اور وہ جہاز پر ہی انتقال کر گئے۔

’دی نیویارک پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 70 سالہ شلپروڈ، کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ سے منسلک مہلک ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ میں ’پیشنٹ زیرو‘ بنے۔

’پیشنٹ زیرو‘ سے مراد وہ پہلا شخص ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اسے انفیکشن ہوا اور اس نے ممکنہ طور پر کروز جہاز سے جڑے افراد میں اسے پھیلایا۔ لہٰذا تفتیش کار دیگر متاثرہ افراد کے تعلق کا سراغ، لیو سے جوڑ رہے ہیں، جو سب سے پہلے بیمار ہوئے اور وفات پا گئے، اسی لیے انہیں ’پینٹ زیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کی موت نے جہاز پر موجود دیگر مسافروں کو بھی خطرے میں ڈال دیا، کیونکہ وہ مسلسل اپنے ساتھیوں اور اہلیہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔

المیہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ لیو کی ہلاکت کے بعد ان کی اہلیہ مریم، اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر اتریں تاکہ وہاں سے نیدرلینڈز واپس جا سکیں۔ لیکن وائرس ان کے جسم میں بھی سرایت کر چکا تھا۔ جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈے پر وہ اچانک گر پڑیں اور اگلے ہی دن دم توڑ گئیں۔

’دی نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ان کی موت کی وجہ بھی وہی ہنٹا وائرس تھا جو انہیں اپنے شوہر سے منتقل ہوا تھا اور اس ایک واقعے نے 19 ممالک کے مسافروں کو خطرے میں ڈال دیا اور اب تک آٹھ کیسز اور تین اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یوں کوڑے کے ڈھیر پر ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی تڑپ دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن گئی۔

اس واقعے نے بین الاقوامی طبی برادری میں کھلبلی مچا دی۔ ’ایم وی ہونڈیئس‘ کو اسپین کے کینری جزائر پر روک لیا گیا اور تمام مسافروں کا سخت طبی معائنہ کیا گیا۔ اب تک مختلف ممالک کے مسافروں میں سے 8 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *