کیا دو انگلیوں سے نبض کا معائنہ دل کی بیماری بتا سکتا ہے؟ – Health



15113152f8552f0 کیا دو انگلیوں سے نبض کا معائنہ دل کی بیماری بتا سکتا ہے؟ - Health

آن لائن سوشل میڈیا پر دو انگلیوں کی مدد سے نبض چیک کرنے کا طریقہ کافی مقبول ہو رہا ہے اور اسے گھر بیٹھے دل کی صحت جانچنے کا ایک آسان نسخہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس طریقے میں کلائی یا گردن پر دو انگلیاں رکھ کر دل کی دھڑکن کی ترتیب کو محسوس کیا جاتا ہے اور دھیان دیا جاتا ہے کہ دھڑکن باقاعدہ، بہت تیزیا بہت دھیمی ہے۔

ماہرینِ امراضِ قلب کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ خود سے کیا جانے والا معائنہ کسی بیماری کی حتمی تشخیص تو نہیں کر سکتا، لیکن یہ دل کی خرابی کی ان ابتدائی علامات کو پکڑنے میں بے حد مددگار ثابت ہو سکتا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ کو کرنے کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ آپ اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی کو کلائی پر انگوٹھے کے بالکل نیچے یا پھر گردن کی رگ پر رکھ کر دھڑکن محسوس کریں۔

ماہرین کے مطابق نبض چیک کرنے کا بہترین وقت صبح سویرے سو کر اٹھنے کے فوراً بعد ہے، کیونکہ اس وقت جسم مکمل طور پر آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ ورزش کرنے، کافی پینے یا سگریٹ نوشی کے بعد نتائج درست نہیں آتے، اس لیے ایسی سرگرمیوں کے بعد کم از کم ایک گھنٹہ انتظار کرنا چاہیے۔

معائنے کے لیے 30 سکنڈ تک دھڑکنیں گنیں اور اسے دو سے ضرب دے دیں۔ ایک صحت مند بالغ انسان کی نبض آرام کی حالت میں 60 سے 100 دھڑکن فی منٹ کے درمیان ہونی چاہیے۔

ماہرین صحت کے نزدیک یہ سادہ ٹیسٹ آپ کے دل کی صحت اور خون کی گردش کے بارے میں اہم سراغ دے سکتا ہے، لیکن یہ مکمل تشخیص کا متبادل نہیں ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق اگر نبض کی رفتار آرام کی حالت میں مستقل طور پر 100 سے اوپر رہتی ہو یا 60 سے کم ہو، تو یہ دل کے برقی نظام میں خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔

نبض کی بے ترتیب رفتار ذہنی دباؤ، جسم میں پانی کی کمی یا تھائیرائڈ جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر نبض گنتے وقت ایسا محسوس ہو کہ دل کی ایک دھڑکن بیچ میں چھوٹ گئی ہے یا دھڑکنیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں، تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں کیونکہ یہ فالج کے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔

اگر نبض کی خرابی کے ساتھ سینے میں درد، چکر آنے، سانس پھولنے یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

یہ ٹیسٹ دل کی بند شریانوں یا ہائی بلڈ پریشر جیسی خاموش بیماریوں کا پتہ نہیں لگا سکتا، جس کے لیے باقاعدہ ای سی جی یا ایکو ٹیسٹ ضروری ہے۔

آج کل اسمارٹ واچز بھی نبض مانیٹر کرنے کی سہولت دیتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آلات سے ملنے والی معلومات کو ہمیشہ مستند طبی ٹیسٹ سے تصدیق کروانی چاہیے۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں شوگر، ہائی بلڈ پریشر یا موٹاپے کا سامنا ہے، یا جن کی عمر 40 سال سے زائد ہے، انہیں باقاعدگی سے اپنا چیک اپ کروانا چاہیے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ دل کو مضبوط رکھنے کے لیے متوازن غذا، نمک کا کم استعمال اور روزانہ 30 منٹ کی سیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ نبض کی رفتار اور دل کی صحت برقرار رہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *