پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہ گلگت بلتستان کے مختلف حلقوں میں پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے آفیشل ’فارم 45‘ کے بجائے کچے رزلٹ فراہم کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قمر زمان کائرہ نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن کے عملے سے کچھ شکایتیں ضرور رہیں، پولنگ اسٹیشنز بدلے گئے اور لسٹوں میں بھی مسائل سامنے آئے تاہم پیپلزپارٹی نے احتجاج کا راستہ نہیں اپنایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتائج سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پریزائیڈنگ افسران ان کے پولنگ ایجنٹس کو آفیشل نتائج کے بجائے کچے نتائج دینے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر سے بات ہوئی ہے اور میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 جاری کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے پولنگ ایجنٹس کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ وہ آفیشل نتائج کے حصول تک کسی صورت پولنگ اسٹیشنز کو نہ چھوڑیں اور پُر امن طریقے سے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنز کے آفیشل نتائج حاصل کریں۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان ایک انتہائی حساس خطہ ہے، اس لیے یہاں الیکشن کے عمل کو کسی صورت متنازع بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر کسی کو الیکشن چھیننے کی کوشش نہیں کرنے دیں گے۔
پی پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ جس پارٹی یا امیدوار کو عوام نے حقیقی طور پر ووٹ دیا ہے، انتخابی نتیجہ بھی اسی کے حق میں آنا چاہیے اور الیکشن کمیشن کو ان کے تمام تحفظات پر فوری اور سخت ایکشن لینا چاہیے۔
پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسن بخاری نے بھی اسی طرز کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو فارم 45 فراہم کرنے کے بجائے پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے، اب ماحول کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور الیکشن کمیشن فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے۔
نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر کو اس معاملے سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے۔