ہزاروں کلومیٹر کی رفتار سے گھومتی زمین: لیکن ہم محسوس کیوں نہیں کر پاتے؟ – Trending
ہم روزانہ زمین پر چلتے، سوتے اور کام کرتے ہیں، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوچتے ہوں کہ ہمارے قدموں کے نیچے کا سیارہ تیزی سے خلا میں گھوم رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی ہے، جو کہ بعض جنگی جہاز سے بھی زیادہ تیز ہے۔ پھر بھی ہمیں نہ کوئی جھٹکا محسوس ہوتا ہے، نہ ہوا کے جھونکے، اور نہ ہی چکر آنے جیسا کوئی احساس ہوتا ہے۔
زمین کی یہ گردش دراصل انتہائی ہموار ہے، اور تمام چیزیں، انسان، سمندر، عمارتیں اور فضا، ایک ساتھ اسی رفتار سے حرکت کر رہی ہیں۔ یوں ہمارے لیے کوئی فرق محسوس کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ جیسے ایک ہموار رفتار سے چلتی ہوئی ریل گاڑی میں بیٹھ کر انسان کو حرکت کا احساس نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح زمین کی گردش بھی اتنی مسلسل اور یکساں ہے کہ ہمارے حواس اسے محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہاں ایک اور قوت بھی اپنا کام کر رہی ہے، جسے کششِ ثقل یا گریویٹی کہتے ہیں۔ اس تیزی سے گردش کرتی زمین میں کششِ ثقل اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ ہر چیز کو اپنے مرکز کی طرف کھینچ کر رکھتی ہے، جس کی وجہ سے ہم مضبوطی سے زمین پر قائم رہتے ہیں۔
زمین کی گردش کی وجہ سے ایک بہت معمولی سی باہر کی طرف قوت پیدا ہوتی ہے، جس سے خطِ استوا پر انسان کا وزن انتہائی معمولی حد تک کم ہو جاتا ہے، لیکن یہ فرق اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی انسان اسے محسوس نہیں کر سکتا۔
انسانی جسم کی ساخت ایسی ہے کہ یہ تیز رفتاری کو نہیں بلکہ رفتار میں تبدیلی کو محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی گاڑی اچانک مڑتی ہے تو ہمیں جھٹکا محسوس ہوتا ہے، لیکن سیدھی، ہموار رفتار میں سفر بالکل پرسکون لگتا ہے۔ چونکہ زمین کی گردش نہایت ہموار اور مستقل ہے، ہمارے حواس اس میں کسی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
اگرچہ ہم زمین کی حرکت کو محسوس نہیں کرتے، لیکن اس کے کچھ واضح ثبوت موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری طوفان شمالی اور جنوبی نصف کرہ میں مختلف سمتوں میں گھومتے ہیں، جو زمین کی گردش کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر ایک آزاد لٹکتا ہوا پنڈولم کئی گھنٹوں تک چھوڑ دیا جائے تو اس کی سمت بدلتی ہوئی نظر آتی ہے، جس کی اصل وجہ زمین کی گردش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی جہاز کے پائلٹ اور میزائل سسٹم بھی اپنی سمت کا حساب لگاتے وقت زمین کی گردش کو مدنظر رکھتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین تقریباً ساڑھے چار ارب سالوں سے اسی طرح مسلسل گھوم رہی ہے، لیکن یہ حرکت اس قدر ہموار، متوازن اور مستقل ہے کہ زمین پر موجود انسان اس حرکت کو براہِ راست محسوس نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں زمین ساکن محسوس ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت میں ہم سب ایک انتہائی تیز رفتار سفر پر ہیں۔
Post Comment