آبنائے ہرمز بندش: شپنگ کمپنیوں نے متبادل زمینی راستے اپنا لیے، افریقہ نیا مرکز بن گیا – World



011242377848892 آبنائے ہرمز بندش: شپنگ کمپنیوں نے متبادل زمینی راستے اپنا لیے، افریقہ نیا مرکز بن گیا - World

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے عالمی تجارتی راستوں کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ لاجسٹکس اور میری ٹائم ذرائع کے مطابق بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کے بعد افریقہ زمینی راستے سے سامان کی ترسیل کا نیا اور اہم مرکز بن کر اُبھرا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے خلیجی ممالک تک سامان کی ترسیل کے لیے بھی زمینی راستوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لاجسٹکس اور میری ٹائم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ناکہ بندی کے بعد شپنگ کمپنیاں ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے نئے زمینی راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کی ’جدہ‘ بندرگاہ اب ایک نئے علاقائی ’ہب‘ کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ ایم ایس سی، مائرسک، کوسکو اور سی ایم اے سی جی ایم جیسی بڑی عالمی شپنگ کمپنیاں اب نہر سوئز کے راستے اپنا کارگو جدہ پہنچا رہی ہیں۔

یہاں سے سامان کو ٹرکوں پر لاد کر ہائی ویز کے ذریعے شارجہ، بحرین اور کویت جیسے علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ دو ماہ سے سمندری راستے سے کوئی سپلائی نہیں پہنچ سکی تھی۔

تاہم اس اچانک تبدیلی نے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں۔ فریٹ فارورڈنگ کمپنی ’اووَرسی‘ کے شریک بانی آرتھر باریلاس کا کہنا ہے کہ ’جدہ کی بندرگاہ اس بڑھتے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہاں اب تاخیر اور رش میں اضافہ ہورہا ہے۔‘

اعداد و شمار کے مطابق جدہ میں جہازوں کے انتظار کا اوسط وقت پچھلے ہفتے کے 17 گھنٹے کے مقابلے میں بڑھ کر 36 گھنٹے ہو چکا ہے۔

اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز کے باہر واقع تین دیگر بندرگاہوں کو بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں عمان کی ’صحار‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’خورفکان‘ اور ’فجیرہ‘ بندرگاہیں شامل ہیں۔

خطے کے دیگر ممالک تک سامان پہنچانے کے لیے بھی نئے روٹس وضع کیے گئے ہیں۔ اردن کی ’عقبہ‘ بندرگاہ کو اب عراق کے شہروں، بغداد اور بصرہ تک سامان پہنچانے کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ ترکیہ کے راستے شمالی عراق تک تجارتی سامان کی ترسیل کی جا رہی ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *