امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ڈیل فائنل ہوگئی، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے، بات چیت میں شریک اعلی امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے جب کہ ٹرمپ نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ انہیں معاہدے پر غور کرنے اور دستخط کرنے کے لیے چند دن درکار ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہو گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکا سے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی حامی بھرلی ہے۔ بات چیت میں شریک اعلی امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت ہوگی تاہم ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ٹرمپ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید سخت اور تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق منگل تک معاہدے کی زیادہ تر شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن دونوں فریقوں کو اپنی اعلیٰ قیادت سے منظوری درکار تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بعد میں ایرانی فریق نے آگاہ کیا کہ انہیں ضروری منظوری حاصل ہوگئی ہے اور وہ دستخط کے لیے تیار ہیں تاہم ایران نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
امریکی مذاکرات کاروں نے معاہدے کی تفصیلات سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا لیکن انہوں نے فوری منظوری نہیں دی۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ثالثیوں کو بتایا کہ انہیں معاہدے پر غور کرنے اور دستخط کرنے کے لیے چند دن چاہئیں۔
حکام کے مطابق 60 روزہ مفاہمتی یادداشت میں یہ بھی شامل ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بلا رکاوٹ ہوگی۔ ایک امریکی اہلکار نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ ہے نہ کوئی ٹول ٹیکس ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کی ہراسانی جب کہ ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔
ویب سائٹ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی تاہم یہ عمل تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے تناسب سے مرحلہ وار ہوگا۔
حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم بھی شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ 60 روزہ مدت کے دوران جن ابتدائی امور پر مذاکرات ہوں گے ان میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے کا طریقہ اور یورینیم افزودگی کے معاملے کا حل شامل ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق امریکا اس بات کا بھی عہد کرے گا کہ وہ مذاکرات کے دوران پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی پر بات کرے گا۔ مفاہمتی یادداشت میں ایران کو اشیائے ضروریہ اور انسانی امداد کی فراہمی شروع کرنے کے لیے ایک طریقۂ کار پر بھی غور شامل ہوگا۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو اپنی معیشت بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گا تاہم حتمی فیصلہ آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل میں پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں کسی خفیہ شق یا علیحدہ ڈیل کی تردید کی گئی ہے جب کہ امریکی حکام کے مطابق ایران کو جتنا زیادہ رعایت دی جائے گی، اتنی ہی پیش رفت مذاکرات میں ممکن ہوگی۔