امریکا نے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز کا 22 رکنی عملہ پاکستان کے حوالے کر دیا – Pakistan



04122829ce59bc4 امریکا نے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز کا 22 رکنی عملہ پاکستان کے حوالے کر دیا - Pakistan

پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایک ایرانی مال بردار جہاز کے عملے کے 22 ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں آج ہی ایرانی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق ان افراد کو گزشتہ رات پاکستان لایا گیا تھا اور یہ اقدام امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کی ایک کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ 22 ارکان کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی چھ ارکان کو رہا کیا گیا تھا جو ایران پہنچ چکے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 19 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جہاز ’ایم وی توسکا‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے امریکی احکامات کی خلاف ورزی کی جس کے بعد امریکی فوج نے خلیج عمان میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس واقعے نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ نہ صرف عملہ بلکہ جہاز کو بھی پاکستانی سمندری حدود میں لایا جائے گا جہاں ضروری مرمت کے بعد اسے اصل مالکان کے حوالے کر دیا جائے گا، اور یہ تمام عمل ایران اور امریکا دونوں کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اتوار کی رات ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے علاقائی امن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل کا واحد راستہ ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے آپریشن کا عندیہ دیا ہے، جسے ایرانی حکام نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دینے کا انتباہ دیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *