امریکی اور چینی صدور کی دو گھنٹے طویل ملاقات ختم، ٹرمپ کا سوالوں کے جواب دینے سے انکار – World



14103755b58f1a9 امریکی اور چینی صدور کی دو گھنٹے طویل ملاقات ختم، ٹرمپ کا سوالوں کے جواب دینے سے انکار - World

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔

تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے لیے ٹرمپ کا یہ رویہ حیران کن ہے کیونکہ جنوری 2025 میں ان کی واپسی پر سخت اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی۔

لا ٹروب یونیورسٹی کے پروفیسر نک بسلے نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”جنوری 2025 میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ چین کو ٹف ٹائم دیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باوجود ٹرمپ کا بیجنگ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس تعلق کو کتنی ترجیح دے رہے ہیں۔

آزاد تجزیہ کار اینڈریو لیونگ نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ٹرمپ اس وقت اپنے چینی ہم منصب کے سامنے قدرے کمزور پوزیشن میں بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال ابھی تک حل نہیں ہو سکی ہے اور امریکا کے اندر بھی بہت سے لوگ اس تنازع کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرمپ پر اندرونی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے اپنی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیا ہے۔

اینڈریو لیونگ کے مطابق چین کے پاس نایاب معدنیات (رئیر ارتھ) کی پروسیسنگ پر مکمل کنٹرول ہے، جو امریکا کے جدید ترین فوجی اثاثوں بشمول ایف-35 طیاروں کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہیں، اور یہی چیز بیجنگ کو مذاکرات میں برتری دیتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مدتی مقابلہ اور کشیدگی برقرار رہے گی۔

اینڈریو لیونگ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات کی مکمل بحالی سے ابھی بہت دور ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ساتھ ایپل، بلیک راک اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے وفود لائے ہیں تاکہ وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے وعدے حاصل کر سکیں۔

اس ملاقات میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ صدر ٹرمپ کو تائیوان کی آزادی یا ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی پر راضی کر لیتے ہیں، تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

چین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محاذ آرائی کے مقابلے میں تعاون زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے بدلے میں چین امریکا سے محصولات میں کمی، چینی کمپنیوں پر لگی پابندیاں ختم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا اشارہ اب تعلقات کو مستحکم کرنے اور بہتر بنانے کی طرف ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *