ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مسلم ممالک اور خطے کی اقوام ایک ایسے تاریخی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جہاں امریکی کا غلبہ اور اثر و رسوخ بتدریج کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل مسلم اُمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے، مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات اور تعاون سے خطے میں نیا علاقائی اور عالمی نظام تشکیل پائے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کے روز جاری ہونے والے بیان میں سپریم لیڈر نے کہا کہ مسلم دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل اور امریکی غلبے کا دور ختم ہو رہا ہے۔
ٹیلی گرام پر جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ مسلم اُمہ اور خطے کی اقوام کے درمیان متعدد مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات موجود ہیں جو مستقبل کے عالمی اور علاقائی نظام کی بنیاد بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی صورت حال ناقابلِ واپسی انداز میں تبدیل ہو رہی ہے اور خطے کے ممالک اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے خطے کے ’مزاحمتی محاذ‘ کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا، جسے ایران، لبنان، فلسطین، عراق، شام، یمن، افغانستان، پاکستان اور افریقی خطوں تک پھیلی ایک متحد تحریک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ’مزاحمتی محاذ‘ نے امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا، اسرائیلی قبضے کو چیلنج کیا اور تکفیری گروہ ’داعش‘ کے خلاف جنگ لڑی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اسرائیل کو ’کینسر‘ اور ’ناجائز ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اپنے والد سید علی خامنہ ای کی اس پیشگوئی کا بھی تذکرہ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی ریاست اگلے 25 برس تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
یومِ عرفہ کے موقع پر جاری کیے اس پیغام میں سپریم لیڈر نے ایرانی حجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حج کے دوران دیگر مسلم ممالک کے زائرین تک مسلط کردہ جنگ ایران کی کامیابی کی داستان پہنچائیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین کی آزادی اور عالمی استعمار کے خلاف کامیابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ منصب سنبھالا تھا۔ انہیں یہ ذمہ داری اس وقت ملی جب مارچ کے مہینے میں ان کے والد اور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای تاحال عوامی سطح پر تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے روسی میڈیا آؤٹ لیٹ آر ٹی وی آئی کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران میں ماسکو کے سفیر نے بتایا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے اندر ہی موجود ہیں، تاہم وہ ’قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہو رہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی اور حالت کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران وہ ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔
ان کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات، جن میں 12 مارچ کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل تھا، تحریری صورت میں جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا تھا۔