خلیجِ عمان میں امریکی اور ایرانی بحریہ کے درمیان مبینہ کشیدگی کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں کہا گیا کہ ایران نے خلیجِ عمان میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر وارننگ کے طور پر میزائل اور ڈرون فائر کیے، جس کے بعد امریکی جہازوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر نہ تو حملہ کیا اور نہ ہی ان کی جانب فائرنگ کی ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو یہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتی۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج خطے کے سمندری علاقوں میں معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف نافذ پابندیوں پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خلیجِ عمان میں موجود 2 امریکی جنگی جہازوں کی جانب وارننگ کے طور پر میزائل اور ڈرون فائر کیے، یہ وارننگ قادر میزائلوں اور ”شہید دانا“ نامی نئے حملہ آور ڈرونز کے ذریعے دی گئی۔
ایرانی بحریہ نے اپنے بیان میں واقعے کی تاریخ یا وقت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم کہا گیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی بحریہ کے مطابق یہ کارروائی سمندری جارحیت، تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی مبینہ ضبطی اور ہراسانی کے خلاف جاری اقدامات کے تحت کی گئی، کارروائی کے بعد امریکی جنگی جہاز DDG-103 اور DDG-87 خلیج عمان چھوڑ کر بحرِ ہند کی جانب روانہ ہوگئے۔
بحریہ کے مطابق حالیہ دنوں میں کی گئی اسی نوعیت کی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف جارج ڈبلیو بش کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل امریکی جنگی جہازوں اور امریکی بحری افواج کے کمانڈ سینٹر سے وابستہ بحری یونٹس نے بحرِ عمان سے دوری اختیار کی بلکہ یو ایس ایس ٹریپولی نامی امفیبیئس اسالٹ شپ بھی علاقے سے نکل گئی۔
ایرانی بحریہ کے آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے بیان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر سمندری راستوں میں مداخلت اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایسی سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ دشمن بحری جہازوں اور استعمال کیے گئے میزائلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر ایرانی بحریہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج خلیجِ عمان میں اپنی معمول کی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور سمندری نگرانی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے ان متضاد بیانات کے باعث خلیجِ عمان میں پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے گرد سمندری سلامتی کی صورت حال پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا ایرانی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے نفاذ کو جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ ایران ماضی میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری آمدورفت کے حوالے سے متعدد بار انتباہات جاری کر چکا ہے۔
خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہیں سمجھی جاتی ہیں، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔