امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو دن کے اندر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی مصروفیات کے باعث ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا۔
گزشتہ مذاکراتی دور کے بے نتیجہ خاتمے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
ایرانی حکام اسلام آباد میں بات چیت کے لیے خود کو زیادہ پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی ٹیم کو اسلام آباد میں ایرانی وفد سے ملاقات کی ہدایت کر دی ہے، جس سے ان مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات اگلے دو دنوں کے اندر ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی بیرونِ ملک مصروفیات ہیں۔
وزیراعظم بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں اور ان کی واپسی 18 اپریل کو متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنے اس اہم دورے کے پہلے مرحلے میں جدہ پہنچیں گے جہاں وہ اعلیٰ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
ان ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، تناؤ میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کے امکانات پر غور کرنا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جو مختلف تزویراتی امور پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔
سعودی عرب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ عالمی سطح کے اہم ’اناطالیہ ڈپلومیسی فورم‘ میں شرکت کریں گے۔
اس فورم کے دوران وہ مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور علاقائی و عالمی مسائل پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے۔
اس دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم قطر بھی جائیں گے جہاں مزید سفارتی روابط کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر بات چیت ہو گی۔
وزیر اعظم کے ترکیہ اور سعودی عرب کے دوروں کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
ان تمام مصروفیات کے باعث اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو بغیر کسی پیشرفت کے اختتام پذیر ہوا تھا۔ اس دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان سخت جملوں کے تبادلوں کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔
ایران اور امریکا کے وفود کی واپسی کے فوراً بعد پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیشکش کی تھی۔ جس کی تصدیق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔