ایران سے مذاکرات پر اسرائیل کو شدید تشویش، نیتن یاہو کا امریکی حکام سے رابطہ – World



0620125047c326b ایران سے مذاکرات پر اسرائیل کو شدید تشویش، نیتن یاہو کا امریکی حکام سے رابطہ - World

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے امریکی حکام سے مسلسل رابطے کیے ہیں، جب کہ ان مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت نے تل ابیب میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ کسی حتمی معاہدے کی صورت میں امریکا ایران کو اہم رعایتیں دے سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

سی این این کے مطابق ایک اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ان رابطوں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اس وقت مذاکرات میں کن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اور کون سی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آخری مرحلے میں ایران کو بعض اہم رعایتیں دے سکتا ہے۔ خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے امکانات اسرائیلی خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو معمول کے مطابق امریکی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ مذاکرات کی صورتِ حال سے آگاہ رہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے انہیں کسی غیر متوقع صورتِ حال سے دوچار نہیں کیا۔

ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو مسلسل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ان مذاکرات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہیں، جن میں سب سے اہم ایران کے جوہری مواد کا خاتمہ ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کی تشویش یہ بھی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک پر سخت پابندیاں برقرار رہیں، اوراسرائیلی فوج کو خطے میں خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی بھی حاصل رہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران معاہدہ قبول کر لے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے انکار کی صورت میں شدید حملے کیے جائیں گے۔

بعدازاں، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ تہران امریکا کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز پر غور کے بعد ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *