ایران سے 100 فیصد مناسب جواب چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ – World



2020270931b8cb7 ایران سے 100 فیصد مناسب جواب چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے 100 فیصد مناسب جواب چاہتے ہیں، ایران سے جواب نہ آیا تو کارروائی ہوگی، امریکا نے ایران کو میدان جنگ میں شکست دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے معاہدے پر دستخط کرے، پھر ریلیف کا سوچوں گا، ایران کا معاملہ اِدھر یا اُدھر صورت میں حل کروں گا۔

بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایک شکست خوردہ ملک ہے، ہم اب ایسے لوگوں سے بات کررہے ہیں جو سمجھدار ہیں، یہ ان لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں جو اب ہم میں نہیں ہیں، امید ہے کہ یہ لوگ ڈیل کرلیں گے، اگر ہمیں درست جواب نہیں ملتا تو ہم فورا ایکشن لیں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں 100 فیصد درست جواب چاہیے، میں کبھی نہیں تھکتا، ایران کے جواب کا چند دن تک انتظار کریں گے، 2 روز انتظار کرکے لوگوں کی جان بچانا اچھا عمل ہے، جب تک وہ دستخط نہ کردیں، کوئی ریلیف نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت میں بھی جلد بڑی کمی ہوگی، ترک صدر سے اچھی گفتگو ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کیوبا کے پاس زندہ رہنے کی اشیا نہیں ہیں، کیوبا کے عوام شاندار، بہت سے میرے دوست ہیں، کیوبا کے عوام کو مدد کی ضرورت ہے، امریکا کیوبا کے عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

اس سے قبل قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے قریب واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر بات کی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کہا کہ اگرچہ ایران سے ڈیل میں وقت لگ رہا ہے، ہم ایران کو ایک موقع دینے جا رہے ہیں اور مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، ایران ڈیل کرنے کے لیے بے تاب ہے، ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، ایران میں لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہ ڈیل چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے گفتگو کے دوران مختلف امریکی جنگوں بشمول افغانستان اور ویتنام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ویتنام، افغانستان، عراق اور دیگر ملکوں میں کئی کئی سال تک جنگیں لڑیں۔ ایران جنگ کو ابھی تین ہی ماہ ہوئے ہیں، اس میں بھی زیادہ وقت سیز فائر کا ہے، افغانستان میں 10 سال اور کوریا میں 7 سال جنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لوگوں میں بہت غصہ پایا جاتا ہے، وہاں لوگ بری طرح سے رہ رہے ہیں، ہم نے ایران کو بری طرح سے شکست دی ہے، ایران جنگ میں ہم نے صرف 13 جانیں گنوائیں، دیگر جنگوں میں ہم نے لاکھوں جانیں گنوائیں جب کہ وینزویلا آپریشن میں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کی ہے لیکن اگر معاہدہ نہ کیا تو ایران کے لیے اچھا نہیں ہو گا، ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے، نیتن یاہو کو جو کہوں گا وہ وہی کریں گے، ہمیں آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔

دورہ چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چین کا دورہ کامیاب رہا اور چینی صدر شی جن پنگ سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر بہت اچھے انسان ہیں۔

انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورہ چین پر صرف اتنا تبصرہ کیا کہ روسی صدرکا دورہ چین اچھی بات ہے، صدر پیوٹن کی استقبالیہ تقریب اتنی شاندار نہیں تھی جتنی میری تھی۔

بال روم کی تعمیر کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت زبردست بال روم بنا رہے ہیں اس کی ضرورت تھی، ڈرون پروف بال روم بنا رہے ہیں یہ بہت محفوظ ہوگا۔

داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیلی فورنیا کے انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، شاید میں اسرائیل جاؤں اور وزیراعظم کا انتخاب لڑوں، مجھے 90 فیصد اسرائیلی ووٹ دیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ اس سے فقط ایک گھنٹہ قبل وہ کارروائی مؤخر کرنے کے لیے قائل ہوگئے، ہم مکمل طور پر تیار تھے اور وہ حملہ اس وقت ہو رہا ہوتا۔

ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان موجود غیر یقینی جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم ہو جاتی۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ انہوں نے منگل کے لیے مجوزہ حملہ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث انہیں کچھ وقت دینے کی درخواست کی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *