بوفے کے بچے ہوئے کھانے کا کیا کِیا جاتا ہے؟ – Trending



04143818d4f38e0 بوفے کے بچے ہوئے کھانے کا کیا کِیا جاتا ہے؟ - Trending

باہر کھانے کا تجربہ اکثر خوشی اور آسائش کا احساس دیتا ہے، خاص طور پر جب بات بوفے کی ہو جہاں رنگا رنگ کھانے اور بے شمار انتخاب انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک سوال خاموشی سے ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی اتنا ہی تازہ ہوتا ہے جتنا نظر آتا ہے؟

اسی سوال پر معروف شیف سنجیو کپور نے حال ہی میں ایک گفتگو میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے پوڈکاسٹ میں اس عام تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی کہ ہوٹلوں میں بوفے کا بچا ہوا کھانا اگلے دن پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت اس سے کچھ مختلف اور شاید زیادہ سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوٹلوں میں بھی بچا ہوا کھانا اسی طرح سنبھالا جاتا ہے جیسے ایک عام گھر میں ہوتا ہے۔

ان کا مؤقف یہ تھا کہ فرق صرف تربیت اور طریقہ کار کا ہے۔ ہوٹلوں میں اس کام کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور بہتر نظام موجود ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کھانے کو کیسے محفوظ رکھنا ہے اور کب اسے استعمال کے قابل نہیں سمجھنا اور کتنی مقدار میں بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل غیر ضروری طور پر زیادہ کھانا تیار نہیں کرتے، جبکہ گھروں میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے اور پھر ضائع ہو جاتا ہے۔

شیف نے واضح کیا کہ جو کھانا غیر محفوظ یا استعمال کے قابل نہیں رہتا، اسے گھروں کی طرح ہوٹلوں میں بھی ضائع کر دیا جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ کچن فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے پابند ہوتے ہیں۔

یہ بات سننے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم نظر آئی۔ کچھ لوگوں نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا صارفین کو ہر بات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کیا واقعی معیار ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اچھے ہوٹل اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول نہیں لیتے اور معیار کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے جدید طریقوں کی طرف بھی اشارہ کیا، جیسے فروزن فوڈز کا استعمال، جس سے بچا ہوا کھانا کم ضائع ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ تجربات ایسے بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ بڑے ہوٹلوں میں خاصی مقدار میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاتا۔

شیف سنجیو کپور کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہوٹل انڈسٹری میں کھانے کے انتظام کے لیے بہتر تکنیکی مہارت استعمال کی جاتی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہاں ہمیشہ باسی یا غیر معیاری کھانا دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *