امریکی تھیم پارک میں ایک موبائل فون کی وجہ سے درجنوں افراد کی جان خطرے میں پڑ گئی اور وہ آسمان کی بلندیوں پر لٹکے رہ گئے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ٹیکساس کے مشہور تفریحی پارک ’سکس فلیگز فیسٹا‘ میں ایک جھولا اچانک رک گیا جس سے سوار افراد تقریباً 200 فٹ کی بلندی پر فضا میں معلق رہ گئے۔ یہ واقعہ 26 اپریل کو پیش آیا، جس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سپرگرل اسکائی فلائٹ نامی جھولا اچانک رکنے کے بعد لوگ ہوا میں جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
جھولے میں سوار ماریا سالازارنامی ایک خاتون نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’ہوا میں رک کر انتظار کرنا بہت ڈراؤنا تھا، ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور دوستوں کے ساتھ تھیں جب جھولا اچانک رک گیا۔ ان کے مطابق، وہ تقریباً 10 سے 15 منٹ تک فضا میں معلق رہے جب تک کہ عملہ انہیں محفوظ طریقے سے نیچے نہ لے آیا۔
تاہم پارک انتظامیہ نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں آیا۔
ایک ترجمان نے بتایا، ’گزشتہ ویک اینڈ پر ہمارے ایک رائیڈ آپریٹر نے اس وقت جھولا روک دیا جب ایک ٓشخص نے ہماری حفاظتی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موبائل فون استعمال کیا۔‘
ترجمان کے مطابق، ’کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا فون کے گرنے سے بچنے کے لیے آپریٹر نے جھولے کو وہیں روک دیا۔ مسئلہ حل ہونے کے بعد جھولا دوبارہ چلایا گیا اور تمام مہمان بحفاظت نیچے اتر گئے اور اس کے بعد جھولا دوبارہ کھول دیا گیا۔‘
انتظامیہ کے مطابق جھولا تقریباً سات منٹ کے لیے رکا رہا اور اس دوران تمام افراد اپنی نشستوں پر محفوظ طریقے سے بندھے ہوئے تھے۔
یہ جھولا تقریباً 200 فٹ، یعنی 40 منزلہ عمارت کے برابر بلندی تک جاتا ہے اورلوگوں کو بہت اونچائی تک لے جا کر 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوماتا ہے۔ اس کی کھلی نشستیں نیچے کے مناظر کو واضح طور پر دکھاتی ہیں، جس سے اس کا تجربہ مزید سنسنی خیز بن جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تفریحی پارکس میں حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
موبائل فون یا دیگر ڈھیلی اشیاء کا استعمال نہ صرف سوار افراد بلکہ نیچے موجود لوگوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔