سندھ کے ضلع جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے نے اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کر دی۔
محمد حسن برڑو نے اپنی ویڈیو بیان میں کہا کہ سردار صدام حسین برڑو اس وقت کراچی میں موجود ہیں جبکہ ان کے تین افراد ان تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو قتل کروایا جا سکتا ہے۔
محمد حسن برڑو نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب سدرہ چنہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہوں نے پسند کی شادی کی ہے اور کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی کی اجازت مذہب اور قانون دونوں دیتے ہیں۔
سدرہ چنہ نے الزام عائد کیا کہ سردار صدام برڑو اور سردار احمد علی چنہ نے تنازع کھڑا کرکے 400 سے 500 افراد کے ہمراہ 121 لوگوں کے گھروں کو جلایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان سرداروں کے نام دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کیوں نہیں کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان سرداروں سے انہیں، ان کے شوہر اور دونوں خاندانوں کو جانی و مالی خطرات لاحق ہیں۔ سدرہ چنہ نے خود کو ’’سندھ کی بیٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ دونوں سرداروں کو دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کرکے تحقیقات کی جائیں۔
سدرہ چنہ کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دونوں سردار علاقے میں خونریزی اور بڑا تصادم پیدا کر سکتے ہیں، جسے بعد میں روکنا مشکل ہو جائے گا۔