عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو سات ڈالر تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات یعنی پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ رپورٹ ہے کہ امریکا، ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل توڑنے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
اس خبر کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں مزید خلل پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جانا ہے۔
گزشتہ ہفتے 24 اپریل کو حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 393 روپے 35 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے کی سطح پر موجود ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران اشارہ دیا تھا کہ جمعہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا اور یہ نئے نرخ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں ایک موقع پر تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا جس سے یہ 126 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو کہ یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکا میں تجارت ہونے والے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 1.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
جون کی ترسیل کے لیے برینٹ کے موجودہ فیوچر کنٹریکٹ کی مدت جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔ جبکہ زیادہ فعال جولائی کا کنٹریکٹ تقریباً 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 112 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔
فیوچر کنٹریکٹ سے مراد وہ معاہدے ہیں جن کے تحت کسی اثاثے کو ایک مقررہ تاریخ پر خریدنے یا بیچنے کا عہد کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کے روز ایران پر ممکنہ فضائی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جانی ہے تاکہ اسے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے راضی کیا جا سکے۔
ایران نے بھی جواباً آبنائے ہرمز سے ہر قسم کی ترسیل روک دی ہے جو توانائی کی فراہمی کا اہم راستہ ہے۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کا کہنا ہے کہ ایران تنازع کے حل یا آبنائے ہرمز کے جلد کھلنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اوپیک پلس سے نکلنے کے باوجود فی الحال قیمتوں پر قابو پانا مشکل نظر آ رہا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ اب طلب میں کمی ہی سپلائی کے اس بحران کا واحد حل بچا ہے۔