سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کے مرکزی ملزم عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیرعرف چریا کو بری کردیا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے دونوں ملزمان کا ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سنایا گیا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا۔
سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی جانب سے ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ فیصلہ ہی کالعدم ہو چکا ہے اس لیے ریمارکس ازخود ختم ہو جاتے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جب کہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔
جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ اگر چند افراد کو فریق بنایا جائے تو مزید درخواستیں آجائیں گی اور فریقین کی تعداد بڑھنے سے مقدمہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ فریقین ہونے کی صورت میں وکلا کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے سماعت متاثر ہوتی ہے۔
جسٹس شہزاد ملک نے سندھ ہائیکورٹ کے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں یہ رائے دی گئی تھی کہ ایم کیو ایم کا کراچی پر کنٹرول تھا، جس کے باعث گواہان خاموش رہے تاہم عدالت نے اس معاملے پر مختلف نکات پر سوالات اٹھائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ زبیر عرف چریا کا اعترافی بیان موجود ہے جب کہ عبدالرحمان عرف بھولا کا ایسا کوئی بیان ریکارڈ پر نہیں آیا۔ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر بعض الزامات سیاسی جماعت سے متعلق تھے تو دیگر افراد کی بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع فیکٹری ’علی انٹر پرائز گارمنٹس‘ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں 264 افراد زندہ جل کر ہلاک ہوئے جب کہ 50 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
فیکٹری میں لگنے والی آگ کے بھیانک واقعے پر تحقیقات کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تقریباَ ڈھائی سال بعد 2015 میں قائم کی گئی تھی۔ اس تحقیقاتی ٹیم نے 43 سیشنز کیے، 6 بار جائے وقوع کا دورہ کیا اور 39 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر کے حتمی رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں کیمیکل ایگزمینر کی رپورٹس، کرائم سین انسپیکشن رپورٹ، الیکٹرک انسپکٹر، چیف فائر آفیسر، ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ، ویڈیو فرانزک رپورٹ اور دیگر رپورٹس اور تجزیات کا بھی احاطہ کیا گیا تھا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو 264 بار سزائے موت اور 4 ملزمان کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جب کہ سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا گیا۔
اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے قائم جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری میں آگ لگنے کی اصل وجہ حادثہ نہیں بلکہ 22 کروڑ روپے بھتہ نہ دینا تھی، جس پر فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار ایک ملزم رضوان قریشی نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما حماد صدیقی نے فیکٹری کے مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا تھا۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فیکٹری مالکان کے انکار پر ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا نے 11 ستمبر 2012 کو آگ لگانے والا کیمیکل پھینکا جس سے وہاں آگ لگی۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فیکٹری میں ہونے والا سانحہ آتش زنی کا واقعہ تھا جب کہ شواہد بتاتے ہیں کہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے کوئی آثار نہیں ملے۔
جے آئی ٹی نے رپورٹ میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تکنیکی رپورٹس، شہادتوں اور گواہوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگانے کا عمل حادثہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا دہشت گردی کا منصوبہ تھا۔ جو غالباَ کیمیکل کے استعمال سے ممکن ہوا۔
جے آئی ٹی نے پولیس کے مقدمے کے اندراج میں مجرمانہ غفلت کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود کسی معتبر ادارے سے تحقیقات میں کوئی تعاون حاصل ہی نہ کیا گیا جب کہ جو رپورٹس موجود تھیں انہیں بھی پیشہ وارانہ طور پر ٹھیک طریقے سے جانچا اور تشریح نہیں کی گئی۔
دوسری جانب فیکٹری مالکان ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان پر ایم کیو ایم کی جانب سے صلح کے لیے بے حد دباؤ تھا۔ ان کے بقول اس وقت کے ڈپٹی کنوینرکے قریبی دوست اور حیدرآباد کی ایک بڑی کاروباری شخصیت علی حسن سے مذاکرات کے بعد طے یہ پایا کہ اگر فیکٹری مالکان ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو ڈھائی ڈھائی لاکھ اور زخمیوں کو ایک ایک لاکھ معاوضہ دیں۔ تو متحدہ قومی موومنٹ سے صلح ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم ایم کیو ایم پارٹی پلیٹ فارم سے متاثرین کو ادا کرنا چاہتی تھی اور اس مقصد کے لیے فیکٹری مالکان نے 5 کروڑ 98 لاکھ روپے کی رقم ایک اکاؤنٹ میں جمع بھی کرا دی۔
مارچ 2016 میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ فیکٹری میں منظم منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔پولیس نے اپنی جے آئی ٹی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور حماد صدیقی، مبینہ فرنٹ مین عبدالرحمان عرف بھولا، کاروباری بھائیوں علی حسن قادری اور عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، اقبال ادیب خانم، زبیر عرف چریا اور دیگر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔
البتہ طویل تفتیش کے بعد پولیس نے اگست 2016 میں ضمنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں انہوں نے حماد صدیقی، عبدالرحمان دیگر 3 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی اور دیگر 13 افراد کو ٹرائل میں نامزد نہیں کیا تھا لیکن عدالت نے جن افراد کے نام نئی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیے تھے، ان کو بھی ملزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالکان نے فیکٹری کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ دیگر افراد نے بھی جرم کا ارتکاب کیا۔
دسمبر 2016 میں عبدالرحمان عرف بھولا کو انٹرپول کے ذریعے بنکاک سے گرفتار کیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا، اپریل 2017 میں پولیس نے بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کی تھی۔ مذکورہ ضمنی چارج شیٹ میں عبدالرحمان نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر عرف چریا اور دیگر کو حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت کی تھی کیوں کہ فیکٹری مالکان مانگی گئی بھتے کی رقم یا فیکٹری میں شراکت داری سے انکار کر چکے تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد اس وقت کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی نے مبینہ طور پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور بعد میں انہیں پتا چلا تھا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی کو مقدمہ ختم کرنے کے لیے فیکٹری مالکان سے 4 سے 5 کروڑ روپے کی رقم ملی تھی، اس کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے مقدمے میں رؤف صدیقی کو نامزد نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف اتنے ثبوت موجود ہیں کہ انہیں چارج شیٹ میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔
جنوری 2018 میں عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے رؤف صدیقی کو بھی ملزم قرار دیا تھا۔ اپریل 2019 میں کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور واقعے میں ملوث ایک ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کیا تھا۔ اسی ماہ میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا پر فردِ جرم عائد کی۔ مذکورہ کیس میں حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے 4 چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل ہیں۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے کیوں کہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کیا، تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا۔
جے آئی ٹی نے خلاصے میں کہا کہ حقیقت میں یہ ایک دہشت گردی کی واردات تھی جو 20 کروڑ روپے سے زائدبھتہ اور فیکٹری میں حصہ داری نہ دینے کے لیےہوارپورٹ میں واقعے کی تحقیقات میں سمجھوتے اور بوسیدہ نظام پر مبنی پولیسنگ کی نشان دہی کی گئی، جس میں مظلوم اور متاثرین کی بجائے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا تاکہ اس سے فوائد اور مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ خلاصے میں مزید کہا گیا کہ پولیس کی کارکردگی پر پیشہ وارانہ ہونے کی بجائے خوف اور احسان سے مغلوب تھی۔