دنیا تیزی سے اس دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ انسانی جذبات، عادات اور نفسیاتی کیفیت کو بھی سمجھنے لگی ہے۔ وہ چیزیں جو کبھی سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، اب حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔
انہی حیران کن پیش رفتوں میں ایک نئی اصطلاح ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے اسمارٹ فون انسان کی ذہنی کیفیت، خصوصاً ڈپریشن، کے ابتدائی آثار کو محسوس کرنے سے پہلے ہی شناخت کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل فینوٹائپنگ ایک ایسا جدید طریقہ ہے جس میں سمارٹ فونز، اسمارٹ واچز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے ذریعے انسانی رویوں، حرکات اور روزمرہ کی عادات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس عمل میں فون کے سینسرز، لوکیشن ہسٹری، اسکرین ٹائم، ٹائپنگ پیٹرن، نیند کے معمولات اور سوشل سرگرمیوں جیسے عوامل کو جمع کر کے ایک ایسا ”ڈیجیٹل خاکہ“ تیار کیا جاتا ہے جو کسی فرد کی نفسیاتی حالت کی عکاسی کر سکتا ہے۔
امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی آف میڈیسن کی ایک تحقیق نے اس تصوّر کو مزید تقویت دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو ڈپریشن کا شکار تھے، وہ روزانہ اپنے فون پر غیر معمولی حد تک زیادہ وقت گزارتے تھے۔
تحقیق میں شامل متاثرہ افراد کی اوسط فون استعمال کا دورانیہ تقریباً 68 منٹ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ذہنی طور پر صحت مند افراد کی اوسط صرف 17 منٹ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کے استعمال کا بڑھتا ہوا وقت، محدود نقل و حرکت اور سماجی سرگرمیوں میں کمی ذہنی دباؤ اور تنہائی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ کی اصطلاح کو متعارف کرواتے ہوئے اسے انسانی رویے کی لمحہ بہ لمحہ پیمائش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر کلک، ہر سوائپ، ہر قدم اور ہر ٹیکسٹ میسج دراصل ایک چھوٹا سا ڈیٹا پوائنٹ بن جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہی بے شمار ڈیجیٹل نشانات مل کر انسان کی ایک منفرد ”ڈیجیٹل شناخت“ تشکیل دیتے ہیں، جو اس کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں حیران کن حد تک درست معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جدید اسمارٹ فونز اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ انسانی رویوں کے خاموش مبصر بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے لگے، فون کالز کم کر دے، رات گئے تک اسکرین استعمال کرے یا ٹائپنگ کی رفتار میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو یہ تمام عوامل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔
نفسیاتی تحقیق سے وابستہ جریدوں میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹس نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ڈیجیٹل رویوں کا تجزیہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں مریض کے علامات ظاہر کرنے سے پہلے ہی ابتدائی مدد فراہم کرنا ممکن ہوگا۔
تاہم اس ٹیکنالوجی نے جہاں طبی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں پرائیویسی اور ذاتی آزادی سے متعلق سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جذبات، عادات اور ذہنی کیفیت کا ڈیٹا مسلسل جمع کیا جاتا رہا تو یہ معلومات غلط ہاتھوں میں جا کر خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک حقیقت واضح دکھائی دیتی ہے کہ آنے والے وقت میں سمارٹ فون صرف ہمارے رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں گے بلکہ وہ ہماری ذہنی اور جذباتی زندگی کے خاموش تجزیہ کار بھی بن سکتے ہیں۔