چین کے دورے پر موجود امریکی نیوز چینل ’فاکس نیوز‘ کی ٹیم کو بیجنگ میں محض دو منٹ کے لیے غلط جگہ گاڑی کھڑی کرنے پر جرمانے کا ٹکٹ تھما دیا گیا۔
فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بائر نے بدھ کو بتایا کہ ان کے ڈرائیور نے صرف دو منٹ کے لیے غیر قانونی پارکنگ کی تھی جس پر اسے فوری طور پر موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا کہ اسے کیمرے کی مدد سے دیکھ لیا گیا ہے اور اس پر چالیس امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
بریٹ بائر ان دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی کوریج کے لیے بیجنگ میں موجود ہیں جہاں سے وہ اپنے پروگرام کی نشریات کر رہے ہیں۔
بریٹ بائر نے چین میں شہریوں کی کڑی نگرانی اور ہر جگہ نصب کیمروں کے نظام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی آپ کو ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے ایک ریلوے اسٹیشن کے باہر کا منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اس ایک کونے پر کھڑے ہو کر کم از کم بیس کیمرے گن سکتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف اس سال بیجنگ میں پندرہ سو نئے کیمروں کا اضافہ کیا گیا ہے جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں۔
بائر کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص سڑک پار کرنے کے لیے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ایسا کرنے پر فوراً جرمانہ ہو جائے گا۔
لیکن دوسری جانب ان کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل وہ رہی جس میں چلتے ٹریفک کے دوران انہیں سڑک کے درمیان کیمرہ کریو کے ساتھ رپورٹنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پورے چین میں اس وقت تقریباً ساٹھ کروڑ کیمرے نصب ہیں جو مصنوعی ذہانت اور چہروں کی شناخت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
یہ نظام نہ صرف لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے بلکہ بعض علاقوں میں ڈرونز اور جدید کیمروں کے ذریعے خودکار طریقے سے قانون نافذ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
بریٹ بائر نے چین کی نگرانی کے ان اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت کا کہنا ہے یہ سب کچھ لوگوں کی حفاظت کے لیے ہے لیکن شہریوں کی اس طرح نگرانی اور ان کی درجہ بندی کرنے کے حوالے سے کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیمرے ہر جگہ موجود ہیں اور ہر منٹ آپ کی نگرانی کر رہے ہیں۔