ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد روس پہنچ گئے ہین جہاں ان کی صدر پیوٹن سے ملاقات شیڈول ہے۔ ایئرپورٹ پر گفتگو میں انہوں نے امریکا-ایران مذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت پر اظہارِ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کے روز روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے۔ ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد تہران اور ماسکو کے درمیان علاقائی اور عالمی پیش رفت پر قریبی مشاورت اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ جنگ کی تازہ صورت حال کا جائزہ لینے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک بروقت موقع فراہم کرے گا۔
عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جانا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے عمل میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم امریکا کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث گزشتہ دور اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مذاکرات کو کس طرح اور کن شرائط کے تحت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم اس فارمولے کے تحت جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کو کیا رعایتیں دی جائیں۔
ایرانی تجویز کے مطابق اگر اس وقت جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔