قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئندہ مالی سال 27-2026 کا ساڑھے 18 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں۔
جمعے کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ دیگر اراکین بھی شریک ہیں۔
قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے۔ پی ٹی آئی ارکان بینرز اٹھاکر اجلاس میں شریک ہوئے جب کہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب پر پھینک دیں۔
بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں کابینہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل مسودے کی باقاعدہ منظوری دی گئی جب کہ وزیراعظم نے بجٹ دستاویز پر دستخط کیے۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو فیز میں اضافہ ہوگا، گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کے ٹیکسز 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی منظوری دی گئی جب کہ ایک نیا سلیب بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔