پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں شکست – Sports



121538201d607f3 پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں شکست - Sports

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، جہاں میرپور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے کر نئی تاریخ رقم کر دی۔ یہ بنگلہ دیش کی اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی کامیابی ہے، جس نے پاکستانی کرکٹ شائقین کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ 268 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور کھیل کے آخری روز پوری ٹیم محض 163 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔

میچ کے آخری دن بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز 240 رنز پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے ایک مشکل ہدف دیا تھا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے کپتان نجم الحسن شنتو نے 87 اور مومن الحق نے 56 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو مستحکم پوزیشن میں پہنچایا۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی اور نعمان علی نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ شاہین آفریدی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ اسی اننگز کے دوران تجربہ کار اسپنر نعمان علی نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کیں، جو اس میچ میں پاکستان کے لیے واحد خوشی کی خبر تھی۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ اوپنر امام الحق صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ اذان اویس نے 15 رنز بنائے۔ مڈل آرڈر میں سعود شکیل اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بھی پچ پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور دونوں نے 15، 15 رنز بنا کر اپنی وکٹیں گنوا دیں۔

ایک کے بعد ایک وکٹ گرنے کے سلسلے نے پاکستانی ٹیم کو میچ سے مکمل طور پر باہر کر دیا۔ پاکستان کا اسکور جب 152 رنز تھا تو اس کی چھٹی وکٹ گری، لیکن اگلے 6 رنز کے اضافے کے دوران مزید 3 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے، جس سے اسکور 158 رنز پر 9 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچ گیا۔

یاد رہے کہ اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 413 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا تھا، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 386 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

کھیل کے پانچویں روز جب پاکستان نے دوسری اننگز شروع کی تو اسے 72 اوورز میں 268 رنز درکار تھے، لیکن پاکستانی بلے باز بنگلہ دیشی باؤلرز کا سامنا کرنے میں ناکام رہے اور اب میچ مکمل طور پر بنگلہ دیش کے قبضے میں جا چکا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *