یورپی ملک مالٹا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے اوپن اے آئی کمپنی کے ساتھ ایک عالمی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مالٹا اپنے تمام شہریوں اور وہاں رہنے والے افراد کو ایک سال کے لیے چیٹ جی پی ٹی پلس کی پریمیم سروس بالکل مفت فراہم کرے گا۔
مالٹا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنے شہریوں کو مصنوعی ذہانت کے اس مہنگے اور جدید ترین ٹول تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ڈیجیٹل تربیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق مالٹا کے ہر اس شہری اور رہائشی کی عمر 14 سال یا اس سے زیادہ ہے، وہ یہ پریمیم سروس مفت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو صرف ایک مختصر آن لائن کورس مکمل کرنا ہوگا جس میں مصنوعی ذہانت کا درست استعمال سکھایا جائے گا۔
یہ کورس یونیورسٹی آف مالٹا نے تیار کیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مصنوعی ذہانت کیا ہے، یہ کیا کام نہیں کر سکتی اور اسے گھر یا پیشہ ورانہ زندگی میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے؟
یہ کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں ہے کیونکہ مالٹا میں رہنے والے تقریباً 5 لاکھ 74 ہزار 250 افراد اس کورس کو مکمل کر کے چیٹ جی پی ٹی پلس تک مفت رسائی پا سکیں گے، جس کی عام طور پر امریکہ میں ماہانہ فیس 20 ڈالر ہے۔
حکومت نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مالٹا کے وہ شہری جو اس وقت ملک سے باہر رہ رہے ہیں، وہ بھی اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکیں تاکہ کوئی بھی اس بہترین موقع سے محروم نہ رہے۔
اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مئی میں شروع ہو رہا ہے اور مالٹا ڈیجیٹل انوویشن اتھارٹی اس کی نگرانی کر رہی ہے، تاکہ اہل افراد کو سبسکرپشن فراہم کی جا سکے۔
اس بڑے معاہدے کے پیچھے موجود سوچ کو واضح کرتے ہوئے مالٹا کے وزیر اقتصادیات سلویو شیمبری نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں، طلبہ اور کارکنوں کے لیے عملی مدد فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم ایان بورگ نے سلیکون ویلی میں ملاقاتوں کے ذریعے یہ معاہدہ طے کیا اور کہا، ہم نہیں چاہتے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں ہمارا کوئی بھی شہری پیچھے رہ جائے۔
اوپن اے آئی کے بین الاقوامی ممالک کے سربراہ جارج اوسبورن نے مالٹا کی اس پیش قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’مالٹا یورپ اور دنیا میں سب شہریوں کے لیے اے آئی لانے میں پیش پیش ہے، اور جہاں مالٹا آگے بڑھتا ہے، مجھے امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔‘