کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک، شرپسندی کا منصوبہ بے نقاب – Pakistan



1409302840931d9 کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک، شرپسندی کا منصوبہ بے نقاب - Pakistan

آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاجی صورتحال کے دوران مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کی آڈیو لیک منظرِ عام پر آگئی ہے، جس میں مسلح افراد کی موجودگی اور راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی جیسے بیانات سامنے آئے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کی ایک آڈیو لیک منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں حمید کشمیری اور ساجد اعظم کے درمیان گفتگو سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

مبینہ آڈیو میں ساجد اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کے ساتھ ”500 رائفل بردار افراد“ موجود ہیں جو ہر وقت تیار ہیں۔ آڈیو میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی اور گرفتار ساتھیوں کی رہائی سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ بعض مقامات پر سخت اور اشتعال انگیز جملے بھی سنائی دیتے ہیں، تاہم آڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حالیہ پرتشدد احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کا امن خراب کرنے میں ملوث عناصر فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوالے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق ریاستی امن و امان کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی اقدام سنگین جرم ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار کا بیان واضح طور پر پرتشدد احتجاج کی مخالفت کرتا ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلاف رائے کے اظہار کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

ادھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی آزاد کشمیر کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض لوگ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت چل رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 5 ضرور پڑھنا چاہیے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کی آئینی ذمہ داری ہے اور تمام معاملات کا حل قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *