کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں امریکی فوجی اڈے میں ایبولا وائرس کے قرنطینہ مرکز کے قیام کے خلاف مقامی باشندوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اس مرکز کے قیام سے مقامی آبادی کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کینیا کی ہائی کورٹ پہلے ہی اس منصوبے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نانیوکی میں سیکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لگ بھگ 100 افراد مجوزہ قرنطینہ مرکز کے مقام سے تقریباً 4 کلومیٹر دور جمع ہیں، جہاں انہوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کیں اور شدید نعرے بازی کی۔
یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں کینیا کی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرنطینہ مرکز کے قیام کے منصوبے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ یہ مرکز عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق لائیکیپیا کاؤنٹی میں واقع ایک فضائیہ کے اڈے پر 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ یونٹ قائم کیا جانا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں ایسے امریکی شہریوں کو رکھا جائے گا جو ایبولا وائرس کے ممکنہ رابطے میں آئے ہوں لیکن ان میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
احتجاج کے ایک اہم منتظم پیٹرک واہومے کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں اس مرکز کو 9 جون تک مستقل طور پر بند کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نانیوکی ایک انتہائی چھوٹا شہر ہے۔ فوجی اڈے پر تعینات اہلکار ہماری کمیونٹی کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور ان کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ سکول جاتے ہیں۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر وہاں ایک بھی شخص ایبولا سے متاثر ہوا تو پوری آبادی اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
دوسری جانب کینیا کے وزیر صحت عدن دوالے نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حکومت کے ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے۔
شہریوں کے خدشات پر دائر کی گئی ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے، کینیا کی ہائیکورٹ نے جمعے کے روز اس منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے باوجود، فلائٹ ٹریکنگ سروس کے ڈیٹا کے مطابق جمعے کی سہ پہر ایک امریکی فوجی سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے نے نانیوکی میں لینڈ کیا۔ سفارت کاروں اور مقامی افراد نے بھی ہفتے کے اختتام پر فوجی طیاروں کی مسلسل پروازیں دیکھی ہیں۔
مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے کہ احتجاج کے بعد فوجی اڈے کے باہر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جہاں ٹینک اور مسلح فوجی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں، جبکہ اڈے کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور فوج کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔