گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل اتوار کو شام پانچ بجے مکمل ہوگیا۔ جس کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق اسکردو کی 2 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا، جی بی 7 اسکردو سید توقیر مہدی شاہ اور جی بی 10 اسکردو سے راجہ ناصر علی خان کامیاب ہوگئے ہیں۔
گلگت بلتستان میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 24 حلقوں پر 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
گلگت بلتستان کے اب تک موصول غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی اس وقت 6 نشستوں پر آگے ہے۔ گلگت، نگر، اسکردو اور شگر میں پیپلزپارٹی کا زور ہے جب کہ گھانچے، غذر اور دیامر کی پانچ نشستوں پر آزاد امیدوار آگے نظر آرہے ہیں۔
گلگت، غذر اور گھانچے کی تین نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ آج نیوز تمام 24 حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کو سب سے پہلے اپنے ناظرین سے شیئر کررہا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات میں اسکردو کی 2 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے دونوں حلقوں میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار راجہ ناصرعبداللہ 5680 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار خان وزیر 3409 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 3600 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 2300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے 82 پولنگ اسٹیشنز میں سے 42 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اقبال 5000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے 53 پولنگ اسٹیشنز میں سے 52 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7530 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6491 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 814 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 629 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 پولنگ اسٹیشنز میں سے 77 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 5612 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پیپلزپارٹی کے امید وار امتیاز الحق 4540 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے 70 پولنگ اسٹیشنز میں سے 37 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 6190 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم 5978 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے 54 پولنگ اسٹیشنز میں سے 21 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 2929 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 2665 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 40 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار اقبال حسن 5315 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن رضوی 4220 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 12 شگر کے 71 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 6367 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ اسلامی تحریک کے راجہ اعظم خان 3679 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 3390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3383 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1274 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 805 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 16 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امام مالک 2790 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطا اللہ 2474 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 1306 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار عبدالکریم 803 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 1256 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 1162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے 78 پولنگ اسٹیشنز میں سے 30 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نواز خان ناجی 3470 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد شادم خیل 2678 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 26 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار نذیر احمد 2624 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 2542 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 14 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 2040 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 1788 ووٹ لے کر دوسرے اور پیپلزپارٹی کے محمد ایوب شاہ 1126 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے 58 پولنگ اسٹیشنز میں سے 39 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 7204 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 5997 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے 50 پولنگ اسٹیشنز میں سے 22 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 6596 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ آزاد امیدوار عبد الحمید 1365 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 26 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 4419 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 2830 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔
انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6،6 امیدوار نامزد کیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔