آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ – World



23184213181a482 آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر داخل یا واپس نہیں ہو سکتا۔ ایک اور بیان میں انہوں نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ کا بھی حکم دے دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیانات میں کہا ہے کہ ایران اس وقت قیادت کے تعین اور اندرونی سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور اعتدال پسند گروہ کے درمیان اختلافات جاری ہیں۔ ان کے مطابق سخت گیر گروہ جنگی محاذ پر نقصان اٹھا رہا ہے جب کہ اعتدال پسند عناصر کو کچھ حد تک پذیرائی مل رہی ہے۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر نہیں سکتا۔ ان کے مطابق یہ راستہ اس وقت تک مکمل طور پر بند رہے گا جب تک ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف لے کر آنا ہے۔

ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایران کی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور انہوں نے اس عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں موجود ایرانی جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے بقول اب تک 159 ایرانی جہاز کو سمندر برد کیا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری قوت کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور اس کے بیشتر بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ایران اور خود امریکی میڈیا اپنی رپورٹس میں یہ انکشاف کر چکا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس سمندری نگرانی اور دفاع کے لیے گن بوٹس اور دیگر بحری اثاثے موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک جانب پاکستان میں دونوں ملکوں کے لیے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں وہیں امریکی افواج کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔

ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے رکھے گئے مطالبات میں سب سے بنیادی مطالبہ بھی یہی ہے کہ امریکا اس بحری ناکہ بندی کو ختم کرے، تاہم امریکا نے اسے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔

اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے جواب میں سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر جہازوں کو قبضے میں لینا شروع کردیا ہے۔

ایران کی جانب سے حال ہی میں قبضے میں لیے گئے جہازوں میں لائبیریا کا ’ایپامینونڈاس‘ اور پاناما کا ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان جہازوں کو ضروری اجازت نامے نہ ہونے اور نیوی گیشن سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کے الزام پر قبضے میں لیا گیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *