ایرانی فوج کی اعلیٰ ترین آپریشنل کمانڈ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا ایران کے نافذ کردہ سسٹم میں خلل ڈالنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج مکمل اختیارات کے ساتھ آبنائے ہرمز کا انتظام چلا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر لازم ہے کہ وہ ایران کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق صرف مقررہ راستہ اختیار کریں اور ٹرانزٹ کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے پیشگی اجازت کا حصول یقینی بنائیں۔
ایرانی فوج نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت یا نیوی گیشن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز اس راستے پر محفوظ سفر نہیں کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے راستے سپلائی ہونے والے پیٹرولیم اور خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد گزرتا ہے۔
ایران نے اس گزرگاہ کو امریکا اور اس کے اُن اتحادی ممالک کے بحری جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت میں حصہ لیا یا اس کی حمایت کی تھی۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی غیر قانونی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اس گزرگاہ پر اپنا سخت کنٹرول نافذ کیا تھا۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کو امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جسے اب امریکا نے ختم کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے جمعرات کے روز ٹریکنگ سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے امریکی آئل ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حالیہ بیان میں ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سلامتی کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔