امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ایران سے مذاکرات، امریکی حکمت عملی سمیت اہم قومی اور عالمی امور پر غور کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اجلاس میں تمام کابینہ ارکان شریک ہوں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کابینہ کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے، جسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس روایتی طور پر وائٹ ہاؤس کے بجائے میری لینڈ کے دیہی علاقے میں واقع صدارتی رہائش گاہ کیمپ ڈیوڈ میں ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کابینہ کے تمام ارکان شریک ہوں گے جب کہ حال ہی میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گی۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنے شوہر کے کینسر کے علاج اور ذاتی وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نازک اور فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی انتظامیہ تہران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدے کے امکانات اور خطے میں کمزور پڑتی جنگ بندی کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ کیمپ ڈیوڈ امریکی صدور کی جانب سے حساس قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی معاملات پر اعلیٰ سطح مشاورت کے لیے استعمال ہونے والی اہم سرکاری رہائش گاہ سمجھی جاتی ہے۔
امریکی صدور عموماً ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیمپ ڈیوڈ جاتے ہیں، لیکن واشنگٹن میں بدھ کے روز بارش کی پیش گوئی کے باعث اس دورے کی منسوخی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق خراب موسم کی صورت میں اس اجلاس کے مقام اور وقت میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق امریکا اس وقت اس بات پر غور کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو کس سمت میں آگے بڑھایا جائے اور صورت حال کشیدہ ہوئی تو اس صورت میں آئندہ کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں طلب کیا گیا یہ اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکومت اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے آخری دفعہ جون 2025 میں کیمپ ڈیوڈ کا دورہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ ایران کے جوہری معاملات اور غزہ جنگ پر مشاورت کی تھی۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق اس اجلاس میں ایران جنگ مرکزی موضوع ہو گا، تاہم معیشت سمیت دیگر قومی معاملات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔