امریکا ایران معاہدے کا متن جمعے تک ہر صورت جاری کردیا جائے گا: امریکی نائب صدر – World



17193819a7c98e1 امریکا ایران معاہدے کا متن جمعے تک ہر صورت جاری کردیا جائے گا: امریکی نائب صدر - World

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا متن جمعے تک ہر صورت جاری کر دیا جائے گا جب کہ وائٹ ہاؤس کوشش کر رہا ہے کہ دستاویز آج ہی منظر عام پر آ جائے تاکہ امریکی عوام کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اس معاہدے کو امریکی عوام کے لیے ایک اچھا معاہدہ سمجھتا ہے اور اس کے مندرجات عوام کے سامنے لانا چاہتا ہے۔

بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ امریکی عوام کو بتایا جائے کہ معاہدے میں کیا شامل ہے، اسی لیے معاہدے کا متن جلد از جلد جاری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا تھا تاہم اب تک اس کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکا اور ایران نے رواں ہفتے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے جب کہ باضابطہ دستخطی تقریب جمعے کے روز متوقع ہے۔

معاہدے کی تفصیلات کے اجرا میں تاخیر سے متعلق سوال پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر کے نمائندوں نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ معاہدے کا مکمل متن فوری طور پر جاری نہ کیا جائے اور اس سلسلے میں کچھ وقت انتظار کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا متن زیادہ سے زیادہ جمعہ تک منظر عام پر آ جائے گا تاہم امریکی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ معاہدے کا متن آج ہی جاری کیا جائے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کے بارے میں بعض معلومات کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جب کہ ان کے بقول یہ بنیادی طور پر امریکی عوام کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائے گا، جس کے تحت ایران اگر دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے سے متعلق امریکی مطالبات پورے کرتا ہے تو اسے مختلف اقتصادی فوائد حاصل ہو سکیں گے۔

امریکی نائب صدر کے مطابق ان فوائد میں ایران کی معیشت پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ایران کو ایسے معاشی مراعات دی جائیں جو اسے مستقبل میں اس پروگرام کی دوبارہ تعمیر سے باز رکھ سکیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رواں ماہ کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی میں مدد فراہم کرے گا تاکہ بحری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اسی حوالے سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ انتظامیہ محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی مختلف اقدامات کر رہی ہے تاہم ان کی تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی جا سکتیں۔

معاہدے کے بعض مبینہ نکات، جن میں ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کی مالی معاونت، تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہے، کے سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی فائدہ ایران کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک وہ عالمی برادری اور خطے کے ساتھ اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف یہ ہے کہ اگر ایران امریکا، خطے اور دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کے انداز میں بنیادی تبدیلی لاتا ہے تو اسے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ادھر فرانس میں جی 7 اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط کے مطابق طرز عمل اختیار نہ کرے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے متن کے اجرا اور جمعے کو متوقع دستخطی تقریب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پر مزید مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *