ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔
جمعے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔
ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔
ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔