اوپیک کے علاوہ کسی اور عالمی تنظیم سے الگ نہیں ہو رہے: اماراتی حکام – World



29175950b06546e اوپیک کے علاوہ کسی اور عالمی تنظیم سے الگ نہیں ہو رہے: اماراتی حکام - World

متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے بدھ کے روز سی این این کو بتایا کہ ملک اس وقت کسی بھی ملٹی لیٹرل تنظیم سے علیحدگی پر غور نہیں کر رہا۔ یہ بیان اس وقت آیا جب یو اے ای کے اوپیک سے نکلنے کے فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ وہ دیگر عالمی اداروں سے بھی الگ ہو سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اوپیک سے علیحدگی کے بعد دیگر عالمی یا علاقائی اداروں سے بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔

اماراتی حکام نے سی این این کو بتایا کہ ملک اس وقت اپنی عالمی شراکت داریوں اور مختلف اداروں میں کردار کا مجموعی جائزہ لے رہا ہے، تاہم کسی بھی تنظیم سے نکلنے کا کوئی فیصلہ زیرِغور نہیں۔ عہدیدار نے کسی مخصوص ادارے کا نام نہیں لیا، بل کہ عمومی طور پر تمام بین الاقوامی اداروں کا حوالہ دیا۔

یہ وضاحت اس اعلان کے بعد سامنے آئی جب یو اے ای نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے نے عالمی توانائی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں مختلف سوالات کو جنم دیا۔

حکام کے مطابق موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی شراکت داریوں کو کمزور کرنا نہیں بل کہ ان کی افادیت اور ملکی مفادات کے مطابق ان کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال تمام بین الاقوامی اداروں میں رکنیت برقرار ہے اور کسی بھی قسم کی دستبرداری کا ارادہ نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوپیک سے علیحدگی کا اعلان خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر سامنے آیا۔ اماراتی حکام نے اس اجلاس کو مثبت پیش رفت قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ موجودہ علاقائی صورتِ حال اب بھی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے، جس کے باعث مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات اس وقت متعدد علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کا رکن ہے، جن میں اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ شامل ہیں۔ ملک امریکا کا اہم اتحادی بھی ہے اور حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بھی تعلقات میں وسعت آئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز یو اے ای نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی 65 سالہ قدیم تنظیم ’اوپیک‘ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، اوپیک دنیا بھر کے خام تیل کی کُل پیداوار کے تقریباً 40 فیصد حصے کو کنٹرول کرتی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں پر گہرا اثر رکھتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وہ رواں جمعہ کو اس تنظیم سے الگ ہو جائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *