امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان کے بعد اب قطر بھی شامل ہوگیا ہے، تاہم امریکا نے واضح کیا ہے کہ اس تنازعے میں بنیادی اور کلیدی ثالث پاکستان ہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری مذاکراتی ٹیم تہران میں موجود ہے اور اس کا مقصد ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطری مذاکراتی ٹیم امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بعد تہران پہنچی ہے تاکہ دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے اور تصفیہ طلب امور پر کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکے۔ تاہم قطری وزارت خارجہ نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
اگرچہ غزہ سمیت خطے کے دیگر تنازعات میں قطر ایک اہم ثالث رہا ہے تاہم ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر نے محتاط پوزیشن اختیار کر رکھی تھی۔ حالیہ امریکا ایران جنگ میں پاکستان ہی واحد ملک تھا جو باضابطہ اور کلیدی ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کو اس تنازع میں کلیدی ثالث اور رابطہ کار قرار دیتے ہوئے اس کے کردار کی تعریف کی۔
قطری وفد کے تہران پہنچنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے دیگر ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک جو اس تمام صورت حال سے متاثر ہیں، ان کے اپنے حالات ہیں۔ ہم ان سب سے بات کرتے ہیں، تاہم میں یہ واضح کر دوں کہ اس تمام معاملے میں ہم جس ملک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، وہ پاکستان ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی برقرار رہے گا‘۔