امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان کی خبروں نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں، تو صدر ٹرمپ خود اس تاریخی معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کی خاطر قدم بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ موجودہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دونوں فریقین دوبارہ میز پر بیٹھیں۔
اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی دستخط نہیں ہو سکے تھے، لیکن پسِ پردہ رابطے اس قدر مضبوط ہیں کہ ماہرین اب ایک بڑے بریک تھرو کی امید کر رہے ہیں۔ اس عمل میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور مصر بھی ثالثی کے طور پر سرگرم ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
معاملے سے جڑے ایک امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ ڈیل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران بہت سے پیچیدہ مسائل حل کے قریب پہنچ گئے تھے، مگر حتمی اعلان سے قبل امریکی وفد کی واپسی سے کام ادھورا رہ گیا تھا۔
اب واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اس خونی باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
اگلے چند روز، خاص طور پر جمعرات کا دن، اس سلسلے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ جنیوا کا نام بھی ایک ممکنہ مقام کے طور پر زیرِ بحث ہے، لیکن میزبانی کے لیے اسلام آباد کا نام اب بھی سرفہرست ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین اب براہ راست آمنے سامنے بیٹھ کر چھ ہفتوں سے جاری اس جنگ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
پاکستان اس پورے عمل میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے، تو صدر ٹرمپ کا دورہ پاکستان نہ صرف اس معاہدے پر مہر تصدیق ثبت کرے گا بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے وقار میں بھی بے پناہ اضافہ کرے گا۔