ایران اپنا یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر راضی: امریکی اخبار کا دعویٰ – World



241141317c49009 ایران اپنا یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر راضی: امریکی اخبار کا دعویٰ - World

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے کے تحت اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے۔ تاہم برطانوی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے۔

مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

حال ہی میں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم منتقل کرنے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے میں جوہری معاملہ شامل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو مستقبل میں ہونے والے حتمی مذاکرات میں زیرِ بحث لایا جائے گا، اسی لیے اس معاملے کو ابتدائی ڈیل میں شامل نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے۔

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا۔ ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی۔

زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے۔ ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کے مستقبل پر بھی توجہ دی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق امریکا افزودگی کی سرگرمیوں پر طویل المدتی پابندی چاہتا ہے جبکہ ایران نسبتاً مختصر مدت کی تجویز دے رہا ہے۔

مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے 12 ہفتے بعد بھی اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جارہے ہیں۔

اُن حملوں میں ایران کی کئی اہم شخصیات، بشمول اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر شہید ہوگئے تھے جبکہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔

جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل سمیت ان پڑوسی ممالک کو بھی نشانہ بنایا تھا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جس کے بعد خلیجی ریاستوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہ خود کو طویل عرصے سے خطے کے تنازعات سے محفوظ سمجھتی رہی تھیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *