‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ‘اے آئی جنریٹڈ’ تصویر شیئر کر دی – World



29145202fbe3d0e 'ایران جلد ہوش کے ناخن لے'، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 'اے آئی جنریٹڈ' تصویر شیئر کر دی - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیانات کے بعد اب تصاویر کے ذریعے ایران کو دھمکانا شروع کردیا ہے۔ یہ دھمکی پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اہم تجارتی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ بدستور بند ہے اور امریکا اور ایران مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ایران کو دھمکی دی ہے کہ وہ جلدی کرے اور سمجھ داری دکھائے۔

اس پوسٹ کے ساتھ ’اے آئی‘ سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں بندوق ہے، پس منظر میں دھماکے اور تباہی کی عکس بندی کی گئی ہے اور تصویر پر انگریزی میں عبارت درج ہے کہ ’اب شرافت دکھانے کا وقت نہیں بچا‘۔

صدر ٹرمپ نے پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’ایران اپنے معاملات درست نہیں کر پا رہا۔ وہ نہیں جانتا کہ غیر جوہری معاہدے پر کیسے دستخط کیے جاتے ہیں۔ بہتر ہے وہ جلد ہوش کے ناخن لیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کے بعد فی الحال سفارتی کوششیں التوا کا شکار ہیں۔

امریکی مذاکراتی وفد نے گزشتہ ہفتے بات چیت کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کرنا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے عین وقت پر یہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں، اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے تو وہ ہمارے پاس آئے یا ہمیں کال کرے‘۔ اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

پیر کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت اگر امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے اور جنگ کا مکمل خاتمہ ہو تو ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ تاہم چند دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ تہران کی اس تجویز سے خوش نہیں ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس اس کے جواب میں اپنی شرائط پر مبنی کوئی جوابی پیشکش سامنے لائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *