ایران صرف 6 ماہ میں دفاعی صنعت مکمل بحال کرلے گا: امریکی انٹیلی جینس رپورٹ – World



211739397af073d ایران صرف 6 ماہ میں دفاعی صنعت مکمل بحال کرلے گا: امریکی انٹیلی جینس رپورٹ - World

امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی دعوؤں کے برعکس اپنی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے بحال کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تباہ شدہ میزائل سائٹس کی تعمیرِ نو اور ڈرونز کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے، جس کی بحالی میں کئی سال نہیں بلکہ صرف چند ماہ لگنے کا امکان ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خصوصی رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کی فوجی بحالی کی رفتار نے امریکی حکام کو حیران کر دیا ہے۔ امریکی اندازوں کے مطابق ایران محض چھ ماہ کے اندر ڈرون حملوں کی اپنی مکمل صلاحیت بحال کر سکتا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ’ایرانیوں نے بحالی کے حوالے سے انٹیلی جنس کے تمام اندازوں اور ٹائم لائنز کو مات دے دی ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ اگر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ نہ ہوا تو وہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور انہوں نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے فیصلے سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر تھے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر دوبارہ فضائی حملوں کا حکم دیتے ہیں تو ایران اب بھی خطے میں امریکی اتحادی ممالک پر ڈرون اور میزائیل حملوں کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی اس تیز ترین بحالی کی ایک وجہ روس اور چین کی مبینہ معاونت بھی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ چین ایران کو میزائیل کے پرزے فراہم کر رہا ہے۔ تاہم چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کانگریس میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کی 90 فیصد دفاعی صنعت کو تباہ کر دیا ہے اور ایران برسوں تک اپنی صلاحیت بحال نہیں کر سکے گا۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے اس دعوے سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔

امریکی انٹیلی جنس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کے دفاعی ڈھانچے کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن اسے مکمل تباہ نہیں کر سکے۔ ایران کے پاس اب بھی اس کی 50 فیصد ڈرون صلاحیت محفوظ ہے اور حالیہ جائزوں کے مطابق تقریباً دو تہائی میزائل لانچرز بھی قابلِ استعمال حالت میں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحل پر موجود کروز میزائیلوں کا بڑا حصہ بھی محفوظ ہے کیوں کہ امریکی حملوں میں ساحلی فوجی تنصیبات کو کم ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہی میزائیل آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

سی این این کے مطابق اس معاملے پر پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اس بات پر زور دیا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے جو امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *