ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ممکنہ مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں۔ تاہم اس تجویز کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق ایران نے نئی تجویز جمعرات کی شام پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم مجوزہ نکات یا شرائط کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں جنگ کا خاتمہ اور دیرپا امن تہران کی اولین ترجیح ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ 40 روز تک جاری رہی جس کے بعد پاکستان کی کوششوں سے فریقین جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنا تھا۔ بعد ازاں 21 اپریل کو امریکی صدر کی جانب سے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی گئی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 8 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔ بعد ازاں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث مذاکراتی عمل رک گیا تھا جو تاحال تعطل کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان ایک بار پھر دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔
دوسری جانب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، جب کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاریوں میں تیزی کی رپورٹس بھی سامنے آرہی ہیں۔