ایران پر غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی تو سخت جواب دیں گے: ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر – World



19092443473d0fa ایران پر غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی تو سخت جواب دیں گے: ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر - World

ایرانن کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا ایران پر غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے انہیں معاہدے کی تمام شقوں اور شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فریقِ مخالف کی جانب سے بدنیتی، وعدہ خلافی، معاہدے کی خلاف ورزی یا حد سے زیادہ مطالبات سامنے آئے تو ایران دشمن کو سخت اور فیصلہ کن جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مخالف فریق کو ماضی میں جنگ کے دوران ایک مرتبہ سبق سکھایا جا چکا ہے، تاہم اگر وہ دوبارہ اسی راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اس بار پہلے سے بھی زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور معاہدے کی شرائط کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود یہ فیصلہ قومی مفاد اور ذمہ داری کے تحت کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت ہے، جس تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کاروں نے مخلصانہ اور وسیع کوششیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور وفاداری قابلِ ستائش ہے اور وہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے دعاگو ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اصولی طور پر ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین اور ایرانی صدر کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں اور ذمہ داریوں کے بعد انہوں نے معاہدے کی توثیق کی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *