ایران پہلی بار جوہری معاملات کے کچھ پہلوؤں پر بات کرسکتا ہے: مارکو روبیو کا دعویٰ – World



022011386ee4710 ایران پہلی بار جوہری معاملات کے کچھ پہلوؤں پر بات کرسکتا ہے: مارکو روبیو کا دعویٰ - World

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں جن پر تہران ماضی میں بات کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ صرف ایک ماہ قبل یا ایک سال قبل انکار کر رہے تھے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ مذاکرات بالآخر ایسے معاہدے پر منتج ہوں گے جو امریکا کے لیے قابلِ قبول ہو۔

مارکو روبیو کے مطابق ایران کے مؤقف میں بعض معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر روس، ایران، غزہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سمیت کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا۔

سینیٹ کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دراصل دیگر ممالک کی مدد کے مترادف ہے، تاہم اس سے امریکا کو کوئی براہِ راست فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی تیل سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے وہاں عوامی امداد کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

مارکو روبیو نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اے آئی کے میدان میں عالمی رہنما ہے اور اس شعبے میں اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بندش دراصل ایک جوابی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث یہ اقدامات زیر غور آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ آبی گزرگاہ سب کے لیے کھلی رہے۔

مارکو روبیو کے مطابق کسی بھی جہاز کو نہ روکا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کا ٹول عائد کیا جائے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یورینیم افزودگی نہ کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد ہر پابندی کے خاتمے کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا انحصار ایران کے اقدامات پر ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *