ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا: صدر ٹرمپ کا ردعمل – World



0122153254c9f3e ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا: صدر ٹرمپ کا ردعمل - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا، اگر حقیقت جانیں تو ہم کتنی زیادہ بات چیت کرتے آئے ہیں، میرے خیال میں بہت ہوگا کہ خاموش ہوجائیں۔ ان کا یہ بیان ایرانی میڈیا میں مذاکراتی عمل کی معطلی سے متعلق رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے۔

پیر کے روز امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے۔

امریکی صدر کے بقول اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا ہے کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا، ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق سفارتی سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *