امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہماری پہلی ترجیح ہے جس کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاجائے گا، تہران اپنے جوہری عزائم کو ترک اور آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ مارکو روبیو نے دھمکی دی کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا تو پھر ’پلان بی‘ کی ضرورت ہوگی۔
سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے لیے امریکی حمایت اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب یہ اتحاد امریکا کے لیے بھی واضح اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیٹو یورپ کے لیے اہم ہے، لیکن اسے امریکا کے مفادات کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں تہران جوہری عزائم ترک کرے اور آبنائے ہرمز بھی کھلی رہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اس بحری گزرگاہ کو کھولنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے لیے ایک ’پلان بی‘ ہونا ضروری ہے۔