سال 2002 کا موسمِ بہار جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک دور تھا۔ اس سال لاہور کے آسمان پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ رقم کر کردی۔ سات جولائی کو پاک فضائیہ نے اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرون کو ایسے طریقے سے مار گرایا جو کبھی کسی نے نہیں اپنایا تھا۔
دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے ایک حملے کے بعد دونوں جوہری طاقتوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ دونوں ملکوں نے لاکھوں فوج سرحدوں پر آمنے سامنے کھڑی کر دی تھی، جسے بھارت کی طرف سے آپریشن پراکرم کا نام دیا گیا تھا۔
صورتحال اتنی سنگین تھی کہ واشنگٹن، لندن اور بیجنگ میں بیٹھے ماہرین ایٹمی جنگ کے خطرات پر غور کر رہے تھے اور امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اس بحران کو اپنے کیریئر کا سب سے خوفناک ترین دور قرار دیا تھا۔
اس ماحول میں دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی مشنز چلا رہی تھیں، اور اسی مقصد کے لیے بھارتی فضائیہ نے اس وقت نئے اسرائیلی ساختہ ’سرچر مارک ٹو‘ نامی جاسوس ڈرون حاصل کیے تھے۔
سات جون 2002 کی رات کو بھارت کا ایک ایسا ہی ڈرون لاہور کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔
یہ ڈرون وزن میں ہلکا، سائز میں چھوٹا اور رفتار میں دھیما تھا، اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ روایتی ریڈارز کی نظروں سے بچ کر خاموشی سے ویڈیو اور تصاویر بنا سکے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے چھوٹے اور دھیمے طیاروں کو رات کے اندھیرے میں ریڈار پر پکڑنا اور پھر انہیں نشانہ بنانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
پاک فضائیہ کا ریڈار سسٹم اس رات پوری طرح الرٹ تھا اور آپریٹرز نے اس چھوٹے سے سگنل کو نہ صرف وقت پر پہچانا بلکہ اس کا تعاقب بھی شروع کر دیا۔
پاک فضائیہ کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق، ہمیشہ چوکنا رہنے والے پی اے ایف کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے درانداز کی صحیح شناخت کی، اور اس کے چھوٹے، سست رفتار اور کم بلندی والے پروفائل کی نگرانی کی۔
جیسے ہی سرحد کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوئی، پاک فضائیہ کے کمانڈ سینٹر نے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ جس کے بعد نمبر 9 اسکواڈرن کا ایک ایف 16 طیارہ رات کے اندھیرے میں فضا میں بلند ہوا جس میں دو پائلٹ سوار تھے۔ اگلی نشست پر پائلٹ اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب اور پچھلی نشست پر نیویگیٹر اسکواڈرن لیڈر افضل اعوان موجود تھے۔
زمینی ریڈار آپریٹرز کی درست رہنمائی کی مدد سے یہ طیارہ رات کے گھنے اندھیرے میں اس چھوٹے سے ڈرون کے بالکل قریب پہنچ گیا۔
پائلٹس نے ہدف کی تصدیق کی اور اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب نے گائیڈڈ سائیڈ وائنڈر ’اے آئی ایم-9 ایل‘ میزائل فائر کر دیا۔ یہ ایک ہیٹ سیکنگ یعنی گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والا میزائل تھا، جس نے ڈرون کے چھوٹے سے انجن کی گرمی کو لاک کیا اور اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
اس طیارے کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا جسے بعد میں ثبوت کے طور پر اکٹھا کر لیا گیا۔ پاک فضائیہ نے اس کارروائی کو ایک ایسے شکار سے تعبیر کیا جسے اب تک ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔
اس واقعے کو عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑاکا طیارے نے رات کے وقت گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والے میزائل سے کسی ڈرون کو مار گرایا ہو۔
جاسوسی مشنز اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت فضائی حدود کی خلاف ورزی ہیں، لیکن جنگی حالات میں یہ تمام بڑی افواج کا ایک معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور بھارت نے اس مشن کی تفصیلات کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔
پاکستان کے لیے یہ کارروائی اپنی فضائی سرحدوں کے کامیاب دفاع کی ایک بڑی علامت بن گئی، جبکہ عالمی عسکری اداروں کے لیے اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین ڈرون بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتے۔ اور اس کی تازہ مثال ایران کے ہاتھوں امریکی ایم کیو نائن ڈرونز کی پے در پے تباہی ہے۔
پاک فضائیہ کے بیان کے مطابق، فضائی دفاع کے آپریٹرز اور شاہینوں نے اس کارروائی میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا، جو پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ قائم رہے گا۔
بعد میں بین الاقوامی سفارتی کوششوں سے یہ کشیدگی تو ختم ہو گئی، لیکن یہ واقعہ جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔