وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف زرداری سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ دوسری طرف حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیشتر بجٹ تجاویز پر اتفاق کرلیا گیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔
پیر کو وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا کے ہمراہ ایوان صدر پہنچے، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد صدرِ آصف زرداری سے وزیرِ اعظم شہبازشریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر، وزیر خزانہ اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّہ شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، سلیم مانڈوی والا، احد چیمہ کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور ممبر اسمبلی راجہ پرویز اشرف بھی شریک ہوئے۔
ملاقات میں قومی سلامتی، داخلی اور علاقائی صورت حال، معیشت، بجٹ، گلگت بلتستان انتخابات، آزاد کشمیر کی صورت حال، امن و امان اور قومی اہمیت کے امور پر گفتگو ہوئی۔
بجٹ تجاویز اور عوامی ریلیف سے متعلق بات کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
آصف زرداری نے کہا کہ بجٹ میں عوامی فلاح کی اسکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جائے جب کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صدرِ مملکت کو دورہ ایران اور سفارتی رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا اور پیپلز پارٹی نے بجٹ منظورکروانے کے لیے گرین سگنل دے دیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ بعض قابل عمل نکات پر تکنیکی کمیٹیاں مشاورت جاری رکھیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان الیکشن میں کامیابی پر صدر آصف زرداری کو مبارک باد دی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ نوجوان بلاول نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی۔ جس پر صدر مملکت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آخر بیٹا کس کا ہے!
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورت حال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں عوامی ردعمل، درپیش چیلنجز اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے واضح کیا کہ امن، استحکام اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور قیام امن کے لیے طاقت کی پالیسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بلاول بھٹو نے ملاقات میں زور دیا کہ تمام مسائل کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری مکالمے اور پارلیمانی راستے سے نکالا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا جب کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا اعلان وزارت خزانہ کی جانب سے آج رات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات میں بجٹ کی پیشکش کے شیڈول پر مشاورت کے بعد نئی تاریخ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔