آج کی تیز رفتار زندگی میں بہت سے لوگوں کے لیے اطمینان سے بیٹھ کر باقاعدہ کھانا کھانا ایک مشکل کام بن گیا ہے۔ کام کرنے کے دوران، موبائل فون پر سوشل میڈیا دیکھتے ہوئے، ٹی وی کے سامنے یا پھر سفر کے دوران، لوگ سارا دن تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ غذائیت کے ماہرین اب اس عادت کو ایک خاص نام دے رہے ہیں جسے ”ریٹ اسنیکنگ“ کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو واقعی بھوک نہ بھی لگی ہو، تب بھی وہ مسلسل کچھ نہ کچھ چباتا رہتا ہے۔ کبھی کبھار ہلکا پھلکا سنیک لینا بالکل عام بات ہے، لیکن چپس، بسکٹ، میٹھے مشروبات اور فوری تیار ہونے والی بازاری چیزوں کو ہر وقت کھاتے رہنا خاموشی سے صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ عادت عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے جو بہت مصروف رہتے ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اکیلاپن محسوس کرتے ہیں یا صرف اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگ بھوک کے بغیر ہی صرف دل بہلانے یا عارضی سکون کے لیے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔
اس عادت کی بڑی نشانیاں یہ ہیں کہ انسان ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچتا رہتا ہے یا پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد بھی خود کو اسنیکس کھانے سے نہیں روک پاتا۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی زیادہ مقدار میں کھا چکے ہیں، کیونکہ ہر بار کھانے کی مقدار بظاہر بہت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔ لیپ ٹاپ یا موبائل استعمال کرتے ہوئے کھانے سے انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ کھا لیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا جسم یہ بھول جاتا ہے کہ واقعی بھوک لگنا اور پیٹ بھرنا کیا ہوتا ہے۔
اس مسلسل کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے عادت کا صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ چپس، چاکلیٹ اور بسکٹ میں نمک، چینی اور غیر صحت بخش چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے جو وزن میں اضافے اور میٹابولزم کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔
دوسری طرف، مسلسل کھانے سے ہاضمے کے نظام کو آرام نہیں ملتا، جس کے لیے ضروری ہے کہ دو کھانوں کے درمیان مناسب وقفہ ہو۔ اس وجہ سے پیٹ کا پھولنا، تیزابیت اور بھاری پن جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ سارا دن اسنیکس پر گزارا کرتے ہیں، وہ اکثر وہ بنیادی کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس میں پروٹین اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح جسم کو اصل غذائیت نہیں ملتی، جس سے انسان سستی، تھکن اور توجہ کی کمی محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی بات یہ ہے کہ اس غیر صحت بخش عادت کو بدلا جا سکتا ہے۔ اگر کھانے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کر لیے جائیں اور متوازن غذا لی جائے تو بے وقت کی بھوک پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اپنی خوراک میں انڈے، پنیر، گری دار میوے، دالیں اور دہی جیسی پروٹین سے بھرپور چیزیں شامل کرنے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے۔ بازاری سنیکس کی جگہ پھل، بھنے ہوئے چنے یا مکھانے استعمال کرنا ایک بہتر انتخاب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر جسم پیاس کو بھوک سمجھ لیتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت موبائل اور ٹی وی کو خود سے دور رکھیں اور آرام سے چبا چبا کر کھائیں۔ زیادہ بھوک اور جذباتی خواہش کے درمیان فرق کو سمجھ کر ہی ایک صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔