ظلم و بربریت کے بھیانک اثرات: اسرائیل میں نفسیاتی مسائل، خودکشی کے واقعات میں اضافہ – World



291333067b7a753 ظلم و بربریت کے بھیانک اثرات: اسرائیل میں نفسیاتی مسائل، خودکشی کے واقعات میں اضافہ - World

غزہ میں ظلم اور بربریت کے بعد ایران، لبنان اور دیگر خطوں میں جاری فوجی کارروائیوں نے اسرائیلی معاشرے کو نفسیاتی بحران نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مختلف سروے رپورٹس، حکومتی اعداد و شمار اور ماہرین کے مطابق اسرائیل میں ذہنی امراض، پوسٹ ٹراماٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی)، خودکشی کے واقعات اور سماجی تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

قطری نشتریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دو سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعات نے نہ صرف اسرائیلی فوجیوں کی ذہنی صحت کو تباہ کر دیا ہے بلکہ عوام کو بھی گہرے نفسیاتی صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

حال ہی میں اسرائیل کے طبی ادارے ’مکابی ہیلتھ کیئر سروسز‘ کے سروے میں بتایا گیا کہ تقریباً ایک تہائی اسرائیلی شہریوں کا خیال ہے کہ انہیں پیشہ ورانہ ذہنی صحت کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہے۔ حاضر سروس فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں میں یہ صورت حال مزید سنگین ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ ستمبر 2023 کے بعد فوجیوں میں ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ (پی ٹی ایس ڈی) کے کیسز میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 2028 تک اس میں 180 فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے اس عرصے میں ذہنی مسائل کے باعث فوج سے فارغ کیے گئے اہلکاروں کی تعداد تاحال جاری نہیں کی، حالانکہ وہ قانوناً اس کی پابند ہے۔

اسی ماہ اسرائیل کی ہنگامی طبی سروس ’میگن ڈیوڈ آدوم‘ نے ذہنی صحت سے متعلق خصوصی ایمرجنسی سروس شروع کی ہے، کیوں کہ اسے موصول ہونے والی کالز میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق زیادہ تر کالز کا تعلق جنگوں کے مسلسل دباؤ سے متعلق تھا۔

ذہنی صحت کی بگڑتی صورت حال کا ایک بڑا ثبوت خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہے، جس میں زیادہ تر فوجی اہلکار شامل ہیں۔

اخبار ’دی یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں 78 فیصد براہِ راست غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان میں جاری جنگی آپریشنز سے جڑی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی، ڈپریشن، شدید تناؤ اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اکتوبر 2023 کے بعد سے تیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد یہودیوں کے فلسطینیوں پر حملوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خطرناک عمل ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں بھی پھیل رہا ہے، یہ بہت خطرناک ہے اور اسے روکنا ضروری ہے۔

سابق اسرائیلی فوجی اور ماہر نفسیات ٹولی فلنٹ نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ 7 اکتوبر کے حملوں نے اسرائیلیوں کے تحفظ کے احساس کو مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنی فوجی برتری پر جو گھمنڈ تھا، حالیہ واقعات نے اسے غرور کو توڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب اپنی حکومت اور اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ایک اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’این 12‘ کے سروے کے مطابق 18 سے 21 سال کے نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ ’اندرونی غداری‘ کا نتیجہ تھا، جب کہ یہ نسل اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ مذہبی اور دائیں بازو کی حامی نسل بن کر سامنے آ ئی ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں تشدد اور خوف کا رجحان صرف 7 اکتوبر کے بعد پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں اسرائیل کے قیام سے جڑی ہوئی ہیں۔

معروف اسرائیلی سماجیات دان یہودا شینحاو شہرابانی کا کہنا کہ اسرائیلی معاشرہ شروع سے ہی تشدد کے عناصر کے ساتھ تشکیل پایا، جب کہ حالیہ واقعات نے ان رجحانات کو مزید نمایاں اور ’نئی شروعات‘ کے تصور کو فروغ دیا ہے۔

شہرابانی کے مطابق اسرائیلی معاشرے میں پہلے بھی فاشسٹ رجحانات موجود تھے لیکن ماضی میں نسبتاً لبرل حلقے ان پر پردہ ڈال دیتے تھے، لیکن حالیہ جنگ کے بعد نام نہاد لبرل ازم کے پردے ہٹ گئے ہیں اور صیہونیت کا فاشسٹ چہرہ اب ہر جگہ واضح نظر آ رہا ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی پروفیسر زہاوا سلیمان گزشتہ 40 برس سے اجتماعی صدمے پر تحقیق کر رہی ہیں۔ اس معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے صدمات نے اسرائیلی معاشرے میں خود کو ہمیشہ ’مظلوم‘ تصور کی سوچ پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے فلسطینیوں کے لیے انتہائی بھیانک اور تباہ کن نتائج برآمد ہو رہے ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ ذہنی بحران اسرائیل کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرے گا۔

ذہنی صحت کے ماہر ٹولی فلنٹ کا کہنا ہے کہ اس اجتماعی صدمے کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف بحالی کے عمل سے گزرنے سے بہتر ہوسکتا ہے، کیوں کہ جب لوگ ایک بار اس مرحلے سے گزر جائیں تو پھر وہ پہلے جیسے نہیں رہتے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *