عراقی صحرا میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کا انکشاف، ٹرمپ کا ‘پروجیکٹ فریڈم’ دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ – World



100848260c3fc8c عراقی صحرا میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کا انکشاف، ٹرمپ کا 'پروجیکٹ فریڈم' دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ - World

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے۔ اس اڈے پر نہ صرف اسرائیل کی اسپیشل فورسز تعینات تھیں بلکہ اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے رسد اور امدادی کارروائیوں کے مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جب مارچ کے آغاز میں عراقی فوج اس اڈے کے قریب پہنچی تو اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں کے ذریعے انہیں پیچھے دھکیل دیا تاکہ اس جگہ کو خفیہ رکھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فوجی تنصیب امریکی حکام کے علم میں تھی اور اسے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس خفیہ اڈے پر اسرائیل کی خصوصی افواج تعینات تھیں اور اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نشانہ بننے والے اسرائیلی پائلٹوں کی مدد کی جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے شروع میں یہ اڈہ اس وقت تقریباً دنیا کے سامنے آنے والا تھا جب عراق کے سرکاری میڈیا نے ایک مقامی چرواہے کے حوالے سے علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاع دی۔ اس اطلاع پر جب عراقی فوج تحقیقات کے لیے وہاں پہنچی تو اسرائیلی افواج نے اپنی شناخت چھپانے اور اڈے کو بچانے کے لیے عراقی فوج پر فضائی حملے کیے تاکہ انہیں اس مقام سے دور رکھا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد عراق کی جانب سے اقوام متحدہ میں ایک باقاعدہ شکایت بھی درج کرائی گئی تھی۔ عراقی حکام نے اپنی شکایت میں موقف اختیار کیا کہ یہ حملہ غیر ملکی افواج کی جانب سے کیا گیا تھا اور انہوں نے اس فضائی حملے کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا تھا۔

تاہم وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے سے واقف ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس حملے میں براہ راست ملوث نہیں تھا۔

دوسری جانب سمندری محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سختی سے نافذ ہے اور اپریل سے اب تک 58 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ چار کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

اس پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اولین ترجیح امریکی بحری قزاقی کو روکنا ہے اور ہم امریکا کی ہر اشتعال انگیزی کا جواب دیں گے۔

پاسدارانِ انقلاب نے واضح وارننگ دی ہے کہ اگر ایرانی آئل ٹینکرز پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی مراکز اور بحری جہاز ان کے نشانے پر ہوں گے۔

ان دھمکیوں کے درمیان سفارتی کوششوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بننے جا رہا ہے اور اگلے ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ثالثی میں ایک چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کی جا رہی ہے جس میں ایک ماہ کے مذاکرات کا فریم ورک طے کیا جائے گا۔

اس مجوزہ معاہدے میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی کمی اور افزودہ یورینیم کی کسی تیسرے ملک منتقلی جیسے حساس موضوعات شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک طرف ایران سے جلد جواب کی امید ظاہر کی ہے، وہیں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر معاملات آگے نہ بڑھے تو وہ پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جو اس بار پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔

دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب سے گفتگو میں امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں سے امریکی سنجیدگی پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور موجودہ تناؤ کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

چین میں ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے دوست ممالک خصوصاً چین کے جہازوں کو نشانہ نہیں بنائے گا کیونکہ چین نے مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا ہے۔

اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا یہ مذاکرات خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا پائیں گے یا نہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *