اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں اپنے کنٹرول والے علاقوں کی حدود میں نمایاں اضافے کے لیے نئے نقشے جاری کیے ہیں، جس کے بعد غزہ کا تقریباً دو تہائی رقبہ اب براہ راست اسرائیلی فوجی نگرانی یا کنٹرول کے دائرے میں آ گیا ہے۔ سامنے آنے والے نئے نقشوں نے ایک بار پھر علاقے میں غیر یقینی اور تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کی جانب سے خاموشی سے جاری کیے گئے ان نقشوں میں فوجی کنٹرول کے دائرے کو مزید وسیع دکھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گھر فلسطینی ایک نئے محدود علاقے کے اندر آ گئے ہیں۔
ان نقشوں میں ایک نارنجی لائن کے ذریعے اس نئے محدود زون کو ظاہر کیا گیا ہے، جو غزہ کے تقریباً 11 فیصد اضافی علاقے پر مشتمل ہے۔
اس سے پہلے ایک پیلی لائن کے ذریعے اس علاقے کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج موجود تھی۔ ان دونوں لائنوں کو ملا کر دیکھا جائے تو غزہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب مختلف سطح کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
تصویر میں فلسطینی محققین کی جانب سے تیار کردہ نقشے کی نقل، جو امدادی تنظیموں کو فراہم کیا گیا تھا، جس میں غزہ کی ”نارنجی لائن“ دکھائی گئی ہے جو اندازاً 64 فیصد علاقے پر پھیلی ہوئی ہے
اطلاعات کے مطابق یہ نقشے مارچ کے وسط میں امدادی تنظیموں کو فراہم کیے گئے تھے، لیکن انہیں عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس محدود علاقے کا مقصد امدادی سرگرمیوں کو محفوظ بنانا ہے اور امدادی اداروں کو اپنی نقل و حرکت کے لیے فوج کے ساتھ رابطہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام شہری اس سے متاثر نہیں ہوتے۔
دوسری جانب، غزہ میں موجود بے گھر افراد کے درمیان اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ کہیں انہیں ان علاقوں میں رہنے کی وجہ سے نشانہ نہ بنایا جائے۔ کچھ حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل ان علاقوں پر مستقل کنٹرول قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک حالیہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول ہے، اور ان کی فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ اسرائیلی حکام ان علاقوں کو ”بفر زون“ قرار دیتے ہیں، جن کا مقصد مستقبل میں عسکری حملوں کو روکنا ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں۔
ان نئے نقشوں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔
ادھر امدادی اداروں کے کارکنان کی ہلاکتوں نے بھی صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مارچ کے بعد سے کم از کم تین فلسطینی امدادی کارکن، جن میں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت سے وابستہ افراد شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو ختم کرنا تھا۔
مقامی طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 800 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو ان متنازعہ حدود کے قریب رہ رہے تھے۔ اسی عرصے میں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
غزہ میں مقیم لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے لیے یہ نقشے ایک نئی مصیبت کا پیغام لائے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کون سا علاقہ محفوظ ہے اور کون سا نہیں۔ ایک متاثرہ شہری کے مطابق، ”لوگوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کون سی لائن کہاں ہے، ایک دن ایک جگہ ہوتی ہے اور اگلے دن بدل جاتی ہے۔“
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے کنٹرول کا مقصد ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو محدود جگہ میں سمیٹنا ہے، جس سے ان کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل ہو جائے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ امدادی اداروں کے لیے بھی شدید چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔