فریز کیے ہوئے گوشت کو فوراً اور محفوظ طریقے سے پگھلانے کے 5 آسان طریقے – Life & Style



24104539430d55e فریز کیے ہوئے گوشت کو فوراً اور محفوظ طریقے سے پگھلانے کے 5 آسان طریقے - Life & Style

عید الاضحیٰ کے موقع پر گھروں کے فریزر قربانی کے گوشت سے بھر جاتے ہیں۔ لیکن بعد میں فریزر سے نکالا گیا گوشت جلدی پگھلانا اکثر لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، خاص طور پر جب کھانا فوری تیار کرنا ہو۔

زیادہ تر افراد وقت بچانے کے لیے منجمد گوشت کو کچن کاؤنٹر پر رکھ دیتے ہیں، مگر ماہرین صحت کے مطابق یہ طریقہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ گرم موسم میں بیکٹیریا تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔

چند آسان اور محفوظ طریقوں سے گوشت کو نہ صرف جلدی ڈیفروسٹ کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کی اصل ساخت اور ذائقہ بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

خوشخبری یہ ہے کہ کچھ ایسے محفوظ اور تیز طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے قربانی کے گوشت کا ذائقہ اور غذائیت خراب کیے بغیر اسے جلد پگھلایا جا سکتا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے تاکہ عید کی مصروفیات میں وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے۔

ٹھنڈے پانی کا استعمال
پہلا اور سب سے تیز طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو ٹھنڈے پانی کے پیالے میں رکھ دیا جائے۔ یہ طریقہ گوشت کو جلد نرم کرنے کا سب سے مؤثر اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے گوشت کو اچھی طرح بند پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ٹھنڈے پانی میں ڈبو دیا جاتا ہے۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ قربانی کا گوشت ایک ایسے بیگ میں سختی سے بند ہو جس میں پانی اندر نہ جا سکے۔ ہر بیس سے تیس منٹ بعد پانی تبدیل کرتے رہیں۔ یہ طریقہ گوشت کا درجہ حرارت محفوظ حد تک کم رکھتا ہے۔ چھوٹے ٹکڑے ایک گھنٹے میں پگھل سکتے ہیں جبکہ ران یا بڑے ٹکڑوں میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

فریز کرنے سے پہلے گوشت کو چپٹا کرنا
دوسرا طریقہ دراصل قربانی کا گوشت فریز کرنے سے پہلے استعمال کیا جاتا ہے جو عید کے بعد کے دنوں میں بہت فائدہ دیتا ہے۔ گوشت کو بڑے اور موٹے ٹکڑوں میں فریز کرنے کے بجائے اسے پلاسٹک بیگ میں پتلی تہہ کی صورت میں پھیلا کر فریز کریں۔ پتلی تہیں بہت جلدی پگھلتی ہیں اور اس سے فریزر میں جگہ بھی کم استعمال ہوتی ہے۔

دھاتی برتن کا حیرت انگیز طریقہ

تیسرا طریقہ بہت کم لوگ جانتے ہیں لیکن یہ شاندار کام کرتا ہے۔ جمے ہوئے گوشت کو دو دھاتی برتنوں یعنی سلور یا اسٹیل کے پین کے درمیان یا ایک الٹی دھاتی ٹرے پر رکھیں۔ دھات حرارت کو تیزی سے منتقل کرتی ہے جس سے کمرے کی قدرتی گرمی گوشت تک جلدی پہنچتی ہے۔ یہ طریقہ چھوٹے ٹکڑوں کے لیے بہترین ہے اور اس میں بجلی یا پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔

مائیکرو ویو کا احتیاط سے استعمال

چوتھا طریقہ مائیکرو ویو کا ہے۔ آج کل مائیکرو ویو میں ڈیفروسٹ یعنی برف پگھلانے کا آپشن موجود ہوتا ہے جو منٹوں میں کام کر دکھاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس دوران گوشت کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے پلٹتے رہیں اور پگھلنے کے فوراً بعد اسے پکا لیں۔ اگر اسے زیادہ دیر مائیکرو ویو میں چھوڑ دیا جائے تو کچھ حصے پکنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے گوشت کا ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔

گوشت کے چھوٹے حصے بنانا

پانچواں طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو ایک ہی بڑے حصے میں فریز کرنے کے بجائے چھوٹے اور ایک وقت کے استعمال کے حساب سے پیک کریں۔ عید کے دن گوشت بانٹنے اور سنبھالنے کے دوران ہی اس کے چھوٹے پیکٹ بنا لیں۔ اس سے گوشت جلدی پگھلتا ہے، پکانے میں آسانی رہتی ہے اور بار بار پگھلا کر دوبارہ فریز کرنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی۔

سب سے محفوظ طریقہ

اگرچہ جلدی پگھلانے کے یہ طریقے بے حد فائدہ مند ہیں، لیکن فوڈ سیفٹی ماہرین ہمیشہ آہستہ پگھلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گوشت کو پگھلانے کا سب سے محفوظ طریقہ اسے ریفریجریٹر یعنی فریج کے نچلے حصے میں رکھنا ہے، کیونکہ یہ گوشت کو ایک محفوظ اور مستقل درجہ حرارت پر رکھتا ہے۔

اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو ٹھنڈے پانی کا طریقہ بہترین اور محفوظ ہے، جبکہ مائیکرو ویو صرف اسی صورت استعمال کریں جب آپ کو گوشت فوراً پکانا ہو۔

آپ گوشت کو دوبارہ فریز کر سکتے ہیں اگر اسے فریج میں رکھ کر پگھلایا گیا ہو، وہ زیادہ دیر باہر نہ رہا ہو اور اس میں خرابی کی کوئی علامت نہ ہو۔

اس کے برعکس اگر گوشت کو کمرے کے درجہ حرارت پر، یا گرم پانی میں پگھلایا گیا ہو اور وہ کئی گھنٹوں تک باہر پڑا رہا ہو، تو اسے ہرگز دوبارہ فریز نہ کریں کیونکہ اس سے صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور گوشت کا ذائقہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔

عید کی مصروفیات میں ان آسان طریقوں پر عمل کر کے آپ اپنا وقت اور صحت دونوں بچا سکتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *